کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس نے از خود حاکم (قاضی) کے سامنے قسم کھا لی، حاکم اس سے دوبارہ قسم لے گا تاکہ اس کی قسم حاکم کے حکم صادر کرنے کے بعد واقع ہو۔
حدیث نمبر: 20726
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي آخَرِينَ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: " الْحُجَّةُ فِيهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِيَ الْبَتَّةَ، وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا ⦗٣٠٦⦘ وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ "، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع بن عجیر بن عبد یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو «الْبَتَّةَ» ”طلاقِ بتہ“ دے دی ہے، میں نے صرف ایک کا ارادہ کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«آللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟» اللہ کی قسم! کیا تو نے صرف ایک کا ارادہ کیا تھا؟“ تو رکانہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! صرف ایک کا ارادہ کیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کی طرف یہ بات کئی مرتبہ دہرائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20726
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ تقدم برقم 149910»