کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قسم سے فدیہ دے کر بچنے اور جو شخص حق پر ہو اس کے لیے قسم اٹھانے میں رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثُمَامَةَ، قَالَ: " زَعَمُوا أَنَّ حُذَيْفَةَ عَرَفَ جَمَلًا لَهُ سُرِقَ، فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى قَاضِي الْمُسْلِمِينَ، فَصَارَتْ عَلَى حُذَيْفَةَ يَمِينٌ فِي الْقَضَاءِ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ يَمِينَهُ فَقَالَ: " لَكَ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ "، فَأَبَى، فَقَالَ: " لَكَ عِشْرُونَ "، فَأَبَى، فَقَالَ: " لَكَ ثَلَاثُونَ "، فَأَبَى، فَقَالَ: " لَكَ أَرْبَعُونَ "، فَأَبَى، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَتْرُكُ جَمَلِي؟ فَحَلَفَ أَنَّهُ جَمَلُهُ، مَا بَاعَهُ وَلَا وَهَبَهُ ". وَيُذْكَرُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ: فَدَى يَمِينَهُ بِعَشْرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُصُومَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ فِي شَيْءٍ، قَالَ: فَحَلَفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَتَرَانِي أَنِّي قَدِ اسْتَحْقَقْتُهَا بِيَمِينِي؟ اذْهَبِ الْآنَ، فَهِيَ لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس حضرت حسان بن ثمامہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا گمان تھا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا چوری شدہ اونٹ پہچان لیا تو جھگڑا مسلمانوں کے قاضی کے پاس چلا گیا۔ فیصلے میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پر قسم ڈال دی گئی تو انہوں نے قسم کا معاوضہ دینا چاہا۔ کہا: تیرے لیے دس درہم۔ اس نے انکار کر دیا۔ چلو بیس درہم۔ اس نے پھر انکار کر دیا۔ تیس درہم۔ اس نے انکار کر دیا۔ کہا: چالیس درہم۔ اس نے انکار کر دیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اپنا اونٹ چھوڑتا ہوں۔ اس نے قسم اٹھائی کہ یہ اونٹ اس کا ہے، نہ اس نے بیچا اور نہ ہی ہبہ کیا ہے۔
(ب) سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے قسم کے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دس ہزار درہم دیے۔
(ج) سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما کے درمیان جھگڑا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ مجھے میری قسم میں سچا جانتے ہو؟ جاؤ اب یہ چیز بھی تیری ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20713
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»