کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مکتوب کو پڑھنے، اس پر گواہ بنانے اور اس پر مہر لگانے میں احتیاط برتنے کا بیان تاکہ اس میں جعل سازی (رد و بدل) نہ کی جا سکے۔
حدیث نمبر: 20416
وَقَدْ قَالَ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: " احْتَرِسُوا مِنَ النَّاسِ بِسُوءِ الظَّنِّ ".
حافظ ثناء اللہ
اور مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”لوگوں سے بدگمانی کے ذریعے اپنی حفاظت کرو (یعنی ان پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کرو)۔“
حدیث نمبر: 20416
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا ⦗٢١٩⦘ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: " احْتَرِسُوا مِنَ النَّاسِ بِسُوءِ الظَّنِّ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا، وَالْحَذَرُ مِنْ أَمْثَالِهِ سُنَّةٌ متَّبَعَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے برے گمان سے بچاؤ اختیار کرو۔
حدیث نمبر: 20417
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: " الْتَمِسْ صَاحِبًا "، قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا، قَالَ: فَقَالَ لِيَ: " مَنْ؟ "، فَقُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: " إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ، فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبَكْرِيُّ فَلَا تَأْمَنْهُ ". قَالَ: فَخَرَجْنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأَبْوَاءِ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِي، قُلْتُ: رَاشِدًا، فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْ قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا، وَجَاءَنِي فَقَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، وَمَضَيْنَا، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا، آپ ﷺ کا ارادہ تھا کہ مجھے مال دے کر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ میں روانہ کریں تاکہ فتح کے بعد تقسیم کیا جا سکے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ساتھی تلاش کر۔“ میرے پاس سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: آپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھی کی تلاش ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ وہ کہنے لگے: میں تیرا ساتھی ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں نے ساتھی پا لیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون؟“ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی قوم کے شہر میں اترو تو اس سے بچنا، کہنے والا کہے گا: تیرا بھائی بکری ہے، تو اس سے بےخوف نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم ابواء نامی جگہ پر آئے، انہوں نے کہا: مجھے اپنی قوم میں کچھ ضروری کام ہے، آپ میرا انتظار کریں، میں نے کہا: ٹھیک ہے، جب وہ چلا گیا میں نے نبی ﷺ کا ارشاد یاد کیا۔ میں اپنے اونٹ پر مضبوطی سے بیٹھ گیا، یہاں تک کہ میں اس کو چھوڑ کر نکل گیا۔ جب میں اصافر نامی جگہ پہنچا، اچانک وہ ایک گروہ میں میرے مقابل آگئے۔ کہتے ہیں: میں ان کو چھوڑ کر سبقت لے گیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں ان سے بچ گیا ہوں، تو وہ چلے گئے۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کام تھا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلتے ہوئے مکہ آگئے اور میں نے مال ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔
حدیث نمبر: 20418
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عنِ ابنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُلْدَغُ مُؤْمِنٌ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔“
حدیث نمبر: 20419
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ شَهَادَةَ الرَّجُلِ عَلَى الْوَصِيَّةِ فِي صَحِيفَةٍ مَخْتُومَةٍ حَتَّى يَعْلَمَ مَا فِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ آدمی کی وصیت پر شہادت دینے کو جو مہر شدہ صحیفے میں ہو ناپسند کرتے تھے، جب تک معلوم نہ ہو کہ اس میں کیا ہے۔
(ب) سیدنا ابوقلابہ رحمہ اللہ بھی مہر شدہ صحیفے کے اندر بند چیز کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے، شاید کہ اس میں ظلم کیا گیا ہو۔
(ب) سیدنا ابوقلابہ رحمہ اللہ بھی مہر شدہ صحیفے کے اندر بند چیز کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے، شاید کہ اس میں ظلم کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 20420
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَخْتِمُ عَلَى وَصِيَّتِهِ، وَقَالَ: اشْهَدُوا عَلَى مَا فِيهَا، قَالَ: " لَا يَجُوزُ حَتَّى يَقْرَأَهَا، أَوْ تُقْرَأَ عَلَيْهِ فَيُقِرَّ بِمَا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ ایک آدمی کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ وصیت پر مہر لگاتے تھے اور کہتے کہ اس پر گواہ ہو جاؤ۔ فرمایا: جائز نہیں کہ وہ بذات خود پڑھے یا اس کے سامنے پڑھا جائے۔ وہ جو اس میں ہے اس کا اقرار کرے۔
(ب) محمد بن یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو وصیت لکھتا، پھر اس پر مہر لگاتا اور وہ کہتا: اس پر گواہ بنو جو کچھ اس میں ہے۔ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ اس کو باطل خیال کرتے اور قاضی اس کو جائز خیال نہیں کرتے تھے۔
(ب) محمد بن یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو وصیت لکھتا، پھر اس پر مہر لگاتا اور وہ کہتا: اس پر گواہ بنو جو کچھ اس میں ہے۔ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ اس کو باطل خیال کرتے اور قاضی اس کو جائز خیال نہیں کرتے تھے۔