کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کا تزکیہ کرنے والوں کے تزکیے اور ان کی جرح پر اعتماد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20389
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ وَاللَّفْظُ لِمُسَدَّدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: " وَجَبَتْ " ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا، فَقَالَ: " وَجَبَتْ "، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ لِهَذِهِ: " وَجَبَتْ "، وَلِهَذِهِ: " وَجَبَتْ " قَالَ: " شَهَادَةُ الْقَوْمِ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرا، اس کی تعریف کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ دوسرا جنازہ گزرا، اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ آپ ﷺ سے کہا گیا: دونوں کے لیے کیا واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“
حدیث نمبر: 20390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَاةِ، أَوْ قَالَ: النَّبَاوَةِ يَقُولُ: " تُوشِكُوا أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "، أَوْ قَالَ: " خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِمَاذَا؟ قَالَ: " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ، بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن ابوزہیر ثقفی اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے کچھ خبروں کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم اہل جنت کو اہل جہنم سے پہچان لو گے“ یا فرمایا: ”اپنے پسندیدہ لوگوں کو اپنے شریروں میں سے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ فرمایا: ”اچھی اور بری تعریف کی وجہ سے بعض تمہارا بعض پر گواہ ہے۔“