کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کا تزکیہ کرنے والوں کے تزکیے اور ان کی جرح پر اعتماد کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ وَاللَّفْظُ لِمُسَدَّدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: " وَجَبَتْ " ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا، فَقَالَ: " وَجَبَتْ "، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ لِهَذِهِ: " وَجَبَتْ "، وَلِهَذِهِ: " وَجَبَتْ " قَالَ: " شَهَادَةُ الْقَوْمِ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرا، اس کی تعریف کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ دوسرا جنازہ گزرا، اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ آپ ﷺ سے کہا گیا: دونوں کے لیے کیا واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَاةِ، أَوْ قَالَ: النَّبَاوَةِ يَقُولُ: " تُوشِكُوا أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "، أَوْ قَالَ: " خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِمَاذَا؟ قَالَ: " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ، بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن ابوزہیر ثقفی اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو نباہ یا نباوہ (نامی جگہ) میں فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم اہل جنت کو اہل جہنم سے پہچان لو گے“ یا فرمایا: ”اپنے پسندیدہ لوگوں کو اپنے شریروں میں سے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ فرمایا: ”اچھی اور بری تعریف کی وجہ سے بعض تمہارا بعض پر گواہ ہے۔“