کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کا گواہوں کو نصیحت کرنے، انہیں ڈرانے اور شک کی صورت میں انہیں جھوٹی گواہی کے بڑے گناہ اور عظیم بوجھ سے آگاہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، ح، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ " ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ "، قَالَ: وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ "، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا، حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ ". لَفْظُ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ " وَقَالَ: " شَهَادَةُ الزُّورِ " ثَلَاثًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بكرة رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ» ”سب سے بڑے گناہوں“ کی خبر نہ دوں؟“ تین بار فرمایا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمایا: ”1 اللہ کے ساتھ شرک کرنا 2 والدین کی نافرمانی۔“ راوی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”خبردار! جھوٹی گواہی۔“ آپ ﷺ بار بار اس کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ ﷺ خاموش ہو جائیں۔
(ب) ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں؟“ اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی“ تین بار فرمایا۔
(ب) ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں؟“ اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی“ تین بار فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْكَبَائِرَ، فَقَالَ: " الشِّرْكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، " أَوْ: " قَوْلُ الزُّورِ "..
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان کا قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی گواہی یا جھوٹی بات۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ " ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْجُدِّيِّ قَالَ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ⦗٢٠٨⦘ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللهِ "، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ} [الحج: ٣١].
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن نعمان اسدی، سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی اور کھڑے ہو گئے۔ پھر فرمایا: ”جھوٹی گواہی، اللہ کے ساتھ شرک میں برابر ہے۔“ تین مرتبہ فرمایا اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ﴾ [سورة الحج: 30-31] ”بتوں کی پلیدگی اور جھوٹی بات سے بچو۔ وہ اکیلے اللہ کے یکسو ہیں، اس کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ التَّمِيمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَاهِدُ الزُّورِ لَا تَزُولُ قَدَمَاهُ حَتَّى تُوجَبَ لَهُ النَّارُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم اپنی جگہ سے حرکت نہ کریں گے یہاں تک کہ جہنم اس کے لیے واجب ہو جائے۔“