کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے سوار ہونے کا بیان جو پیدل چلنے کی طاقت نہ رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ ⦗١٣٥⦘ قَالَا: ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ شَيْخٌ كَبِيرٌ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذَا؟ "، قَالُوا: نَذَرَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لِغَنِيٌّ " وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ، فَرَكِبَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھا آدمی گزرا جس کو اس کے دونوں بیٹے سہارا دیے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کیا ہے؟“ جواب ملا: اس نے پیدل چل کر حج کی نذر مانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس کو عذاب دینے سے غنی ہے، وہ سوار ہو جائے۔“ پھر وہ سوار ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ: " مَا لَهُ؟ "، فَقَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، قَالَ: " فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ فَمُرُوهُ فَلْيَرْكَبْ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنْ حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جس کو دو آدمی سہارا دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ وہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس کو عذاب دینے سے غنی ہے، اس کو سوار ہونے کا حکم دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ؟ "، قَالَ ابْنَاهُ: كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْكَ، وَعَنْ نَذْرِكَ " لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے بیٹوں کا سہارا لیے ہوئے تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس بوڑھے کا کیا حال ہے؟“ اس کے دونوں بیٹوں نے کہا: اس پر نذر تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بوڑھے! سوار ہو جا، کیونکہ اللہ تجھ سے اور تیری نذر سے بے پروا ہے۔“