السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ركوب من لم يقدر على المشي باب: اس شخص کے سوار ہونے کا بیان جو پیدل چلنے کی طاقت نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 20109
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ ⦗١٣٥⦘ قَالَا: ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ شَيْخٌ كَبِيرٌ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذَا؟ "، قَالُوا: نَذَرَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لِغَنِيٌّ " وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ، فَرَكِبَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھا آدمی گزرا جس کو اس کے دونوں بیٹے سہارا دیے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کیا ہے؟“ جواب ملا: اس نے پیدل چل کر حج کی نذر مانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس کو عذاب دینے سے غنی ہے، وہ سوار ہو جائے۔“ پھر وہ سوار ہو گیا۔