کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نشرہ (جادو کا توڑ کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19613
قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: النُّشْرَةُ ضَرْبٌ مِنَ الرُّقْيَةِ وَالْعِلَاجِ يُعَالَجُ بِهِ مَنْ كَانَ يَظُنُّ مَسَّ الْجِنِّ، وَقِيلَ: سُمِّيَتْ نُشْرَةً لِأَنَّهُ يَنْشُرُهَا عَنْهُ، أَيْ يُحِلُّ عَنْهُ مَا خَامَرَهُ مِنَ الدَّاءِ..
حافظ ثناء اللہ
ابو سلیمان (خطابی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نُشرہ دم اور علاج کی ایک قسم ہے جس کے ذریعے اس شخص کا علاج کیا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اسے جن کا اثر (آسیب) ہے، اور کہا گیا ہے کہ اسے نُشرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ (علاج کرنے والا) اس کے ذریعے اس سے (بیماری کو) کھول دیتا ہے، یعنی جو بیماری اس میں سرایت کر گئی ہو اسے اس سے دور کر دیتا ہے۔“...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19613
حدیث نمبر: 19613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ، فَقَالَ: " هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ مَعَ إِرْسَالِهِ أَصَحُّ، وَالْقَوْلُ فِيمَا يُكْرَهُ مِنَ النُّشْرَةِ وَفِيمَا لَا يُكْرَهُ كَالْقَوْلِ فِي الرُّقْيَةِ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جنات کے دم کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شیطانی عمل ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: جنات کے دم کے بارے میں جو دو قسم کے قول منقول ہیں وہ اسی طرح ہی ہیں جو عام دم کے بارے میں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19613
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»