کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پیدائش کے وقت بچے کا نام رکھنے اور اس بارے میں گزشتہ روایات سے زیادہ صحیح روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 19304
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَهَبْتُ ⦗٥١٤⦘ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ "، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جس وقت وہ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ اونٹوں کے پاس تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کھجور ہے؟“ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے کھجوریں پکڑ کر منہ میں ڈال کر چبائیں، پھر نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیں۔ بچہ کھجور چوسنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انصار کھجور کو پسند کرتے ہیں۔“ اور آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 19305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ فِيهِ: وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلِيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میرے گھر بچہ پیدا ہوا جسے میں لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھ کر کھجور سے گھٹی دی اور ابواسامہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے برکت کی دعا کر کے واپس کر دیا اور یہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بڑا بیٹا تھا۔