کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ اختیاری ہے، واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا يُحِبُّ اللهُ الْعُقُوقَ ". كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت «الْعُقُوقَ» ”نافرمانی“ کو ناپسند فرماتے ہیں۔“ گویا کہ آپ ﷺ نے عقیقہ کے نام کو ہی ناپسند کیا ہے اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ پسند کرے کہ اس کی جانب سے عقیقہ کرے تو بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19274
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 19275
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ ". وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ". ⦗٥٠٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِذَا انْضَمَّ إِلَى الْأَوَّلِ قَوِيَا، وَقَدْ عَلَّقَ فِيهِمَا ذَلِكَ بِمَحَبَّتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں «الْعُقُوقَ» (عقوق) کو ناپسند کرتا ہوں۔“ گویا کہ آپ ﷺ نے عقیقہ کے نام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو وہ اپنے بچے کی جانب سے جانور ذبح کرنا چاہے تو کرلے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19275
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»