کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ اختیاری ہے، واجب نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا يُحِبُّ اللهُ الْعُقُوقَ ". كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت «الْعُقُوقَ» ”نافرمانی“ کو ناپسند فرماتے ہیں۔“ گویا کہ آپ ﷺ نے عقیقہ کے نام کو ہی ناپسند کیا ہے اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ پسند کرے کہ اس کی جانب سے عقیقہ کرے تو بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ ". وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ". ⦗٥٠٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِذَا انْضَمَّ إِلَى الْأَوَّلِ قَوِيَا، وَقَدْ عَلَّقَ فِيهِمَا ذَلِكَ بِمَحَبَّتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں «الْعُقُوقَ» (عقوق) کو ناپسند کرتا ہوں۔“ گویا کہ آپ ﷺ نے عقیقہ کے نام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو وہ اپنے بچے کی جانب سے جانور ذبح کرنا چاہے تو کرلے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں، اور دونوں میں آپ نے اس (عقیقہ) کو (آدمی کی) پسند پر موقوف رکھا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں، اور دونوں میں آپ نے اس (عقیقہ) کو (آدمی کی) پسند پر موقوف رکھا ہے۔