کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”جو تاخیر کرنا چاہے اس کے لیے قربانی مہینے کے آخر تک جائز ہے“۔
حدیث نمبر: 19256
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الضَّحَايَا إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِيَ ذَلِكَ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي حَامِدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الضَّحَايَا إِلَى هِلَالِ الْمُحَرَّمِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِي ذَلِكَ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قربانی کو تاخیر سے کرنا چاہے تو وہ ذوالحجہ کے آخر تک بھی کر سکتا ہے۔“
(ب) ابو حامد کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قربانیوں کو محرم کا چاند دیکھنے تک بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔“
(ب) ابو حامد کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قربانیوں کو محرم کا چاند دیکھنے تک بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 19257
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَيَشْتَرِي أَحَدُهُمُ الْأُضْحِيَّةَ فَيُسَمِّنُهَا فَيَذْبَحُهَا بَعْدَ الْأَضْحَى آخِرَ ذِي الْحِجَّةِ. حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ مُرْسَلٌ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حِكَايَةٌ عَمَّنْ لَمْ يُسَمَّ. وَقَدْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الشَّرْحِ: رُوِيَ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ: الْأُضْحِيَّةُ إِلَى رَأْسِ الْمُحَرَّمِ، فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَالْأَمْرُ يَتَّسِعُ فِيهِ إِلَى غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ، وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَالَّخَبَرُ الصَّحِيحُ أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ نَحْرٍ، وَعَلَى هَذَا بَنَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فِي كِلَيْهِمَا نَظَرٌ، هَذَا لِإِرْسَالِهِ وَمَا مَضَى لِاخْتِلَافِ الرُّوَاةِ فِيهِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَوْلَاهُمَا أَنْ يُقَالَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو امامہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر مسلمانوں کا کوئی شخص قربانی خریدے تو وہ موٹی تازی ہونی چاہیے اور وہ عید الاضحی کے بعد ذی الحجہ کے آخر تک قربانی کر سکتا ہے۔
نوٹ: بعض احادیث میں محرم کی ابتداء تک قربانی کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوں تو یہ ایک وسعت ہے وگرنہ صحیح احادیث میں منیٰ کے دنوں کو قربانی کے دن شمار کیا گیا ہے۔
نوٹ: بعض احادیث میں محرم کی ابتداء تک قربانی کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوں تو یہ ایک وسعت ہے وگرنہ صحیح احادیث میں منیٰ کے دنوں کو قربانی کے دن شمار کیا گیا ہے۔