کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”جو تاخیر کرنا چاہے اس کے لیے قربانی مہینے کے آخر تک جائز ہے“۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الضَّحَايَا إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِيَ ذَلِكَ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي حَامِدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الضَّحَايَا إِلَى هِلَالِ الْمُحَرَّمِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِي ذَلِكَ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قربانی کو تاخیر سے کرنا چاہے تو وہ ذوالحجہ کے آخر تک بھی کر سکتا ہے۔“
(ب) ابو حامد کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قربانیوں کو محرم کا چاند دیکھنے تک بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19256
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَيَشْتَرِي أَحَدُهُمُ الْأُضْحِيَّةَ فَيُسَمِّنُهَا فَيَذْبَحُهَا بَعْدَ الْأَضْحَى آخِرَ ذِي الْحِجَّةِ. حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ مُرْسَلٌ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حِكَايَةٌ عَمَّنْ لَمْ يُسَمَّ. وَقَدْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الشَّرْحِ: رُوِيَ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ: الْأُضْحِيَّةُ إِلَى رَأْسِ الْمُحَرَّمِ، فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَالْأَمْرُ يَتَّسِعُ فِيهِ إِلَى غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ، وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَالَّخَبَرُ الصَّحِيحُ أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ نَحْرٍ، وَعَلَى هَذَا بَنَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فِي كِلَيْهِمَا نَظَرٌ، هَذَا لِإِرْسَالِهِ وَمَا مَضَى لِاخْتِلَافِ الرُّوَاةِ فِيهِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَوْلَاهُمَا أَنْ يُقَالَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسلمانوں میں سے کوئی شخص جب قربانی کا جانور خریدتا تو اسے موٹا تازہ کرتا، پھر عید الاضحی کے بعد ذی الحجہ کے آخر میں اسے ذبح کرتا۔
نوٹ: بعض احادیث میں محرم کی ابتداء تک قربانی کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوں تو یہ ایک وسعت ہے وگرنہ صحیح احادیث میں منیٰ کے دنوں کو قربانی کے دن شمار کیا گیا ہے۔
ابو سلمہ اور سلیمان کی حدیث مرسل ہے، اور ابو امامہ کی حدیث ایسے لوگوں سے حکایت ہے جن کا نام نہیں لیا گیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں نظر ہے، یہ اس کے مرسل ہونے کی وجہ سے اور پہلی روایت سلیمان بن موسیٰ پر راویوں کے اختلاف کی وجہ سے، اور سلیمان بن موسیٰ کی حدیث ان دونوں میں سے زیادہ اس لائق ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19257
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»