کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بہترین قربانی کے جانوروں کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19081
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا كَانَتِ الضَّحَايَا إِنَّمَا هُوَ دَمٌ يُتَقَرَّبُ بِهِ فَخَيْرُ الدِّمَاءِ أَحَبُّ إِلِيَّ، وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ} [الحج: 32] اسْتِسْمَانُ الْهَدْيِ وَاسْتِحْسَانُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: " أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب قربانیاں محض ایک خون ہیں جس کے ذریعے (اللہ کا) قرب حاصل کیا جاتا ہے، تو بہترین خون (یعنی عمدہ جانور) مجھے زیادہ پسند ہے، اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ﴾ ’یہ (حکم) ہے، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے۔‘ [سورة الحج: 32] سے مراد قربانی کے جانور کو فربہ (موٹا تازہ) اور عمدہ بنانا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا غلام (آزاد کرنا) افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’جو قیمت میں سب سے مہنگا ہو اور اپنے مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ نفیس (اور پسندیدہ) ہو۔‘“...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19081
حدیث نمبر: 19081
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ". قُلْتُ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے پوچھا: کون سی قربانی افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی قیمت زیادہ ہو اور گھر والوں کے نزدیک پسندیدہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاریگر کی مدد کر یا جاہل کو کاریگر بنا دے۔“ میں نے کہا: اگر یہ نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، اس کے ذریعے اپنے اوپر صدقہ کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19081
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 19082
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، ثنا خَلَفٌ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ خَلَفٌ: وَسَمَّاهُ بَقِيَّةُ، قَالَ: كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْأُضْحِيَّةِ قَالَ: فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ الضَّحَايَا إِلَى اللهِ أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالاسود انصاری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بقیہ نے اس کا نام لیا، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتواں تھا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کو محبوب قربانیاں وہ ہیں جن کی قیمت زیادہ ہو اور موٹی تازی ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19082
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم ١٩٠٥٠»
حدیث نمبر: 19083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمَنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ} [الأنعام: ١٤٣] قَالَ: الْأَزْوَاجُ الثَّمَانِيَةُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالضَّأْنِ وَالْمَعْزِ عَلَى قَدْرِ الْمَيْسَرَةِ، فَمَا عَظُمَتْ فَهُوَ أَفْضَلُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت ﴿ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ﴾ [سورة الأنعام: 143] ”آٹھ قسم کے جانور دو بھیڑ کی جنس یعنی نر و مادہ اور دو بکری کی جنس یعنی نر و مادہ۔۔۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ آٹھ قسم کے جانور اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے جوڑے یعنی نر و مادہ آسانی کے ساتھ میسر آنے والے اور جو بڑے ہوں زیادہ افضل ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19083
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»