کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شکار کا بیان جسے تیر مارا جائے اور وہ پہاڑ پر گرے، پھر وہاں سے لڑھک جائے، یا پانی میں جا گرے۔
حدیث نمبر: 18941
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا شُرَيْحٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَمَاتَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ فَلَا تَأْكُلْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے شکار کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کا نام لے کر شکار کو تیر مار کر ہلاک کر دے تو کھا لے، اگر شکار پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ؛ کیونکہ معلوم نہیں کہ تیر یا پانی میں گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 18942
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ صَيْدًا فَتَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلُوا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ التَّرَدِّي قَتَلَهُ أَوْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْمَاءُ قَتَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کرو اور وہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ، ممکن ہے وہ پہاڑ سے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو، اگر پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تب بھی نہ کھاؤ، کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ پانی کی وجہ سے قتل ہوا۔