کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس چیز کے ذریعے ذبح کیا جا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنْا مُدًى أَنُذَكِّي بِاللِّيطِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللهِ فَكُلُوا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِنٍّ أَوْ ظُفُرٍ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الْإِنْسَانِ وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبایہ بن رافع سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس کے چھلکے وغیرہ سے ذبح کر لیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کھاؤ، لیکن جو ناخن اور دانت سے ذبح کیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسان کی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18935
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم»
حدیث نمبر: 18936
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ ⦗٤١٥⦘ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا ولَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنُذَكِّي بِاللِّيطِ؟ فَقَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلُوا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ظُفُرٍ أَوْ سِنٍّ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الْإِنْسَانِ وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشِ". قَالَ: وَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَكُنَّا نَعْدِلُ الْبَعِيرَ بِعَشْرٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَضْنَاهُ. قَالَ: فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا نَدَّ مِنْهَا شَيْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ ذَلِكَ وَكُلُوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کل دشمن سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم کسی لکڑی سے ذبح کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا گیا ہو تو کھالو، لیکن جو ناخن، دانت سے ذبح کیا گیا ہو نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسانی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں اور ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر تھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا جسے تیر مار کر روکا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بعض اونٹ جنگلی جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو اور کھالو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18936
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 18937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ أَوْ ظُفُرٌ وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ". وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْمَغَانِمِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ وَإِذَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، كَذَا قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ سَعِيدٍ قَالُوا: عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَدْ وَافَقَ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ أَبَا الْأَحْوَصِ عَلَى رِوَايَتِهِ..
حافظ ثناء اللہ
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جلدی کرو، جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ، لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کیا گیا ہو، میں تمہیں بتاتا ہوں دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ جلد باز لوگوں نے بکریاں ذبح کر دیں اور ہنڈیاں پکانے کے لیے رکھ دیں اور رسول اللہ ﷺ سب سے آخر میں تھے۔ جب نبی ﷺ کا گزر ہنڈیوں کے پاس سے ہوا تو انہیں انڈیلنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا۔ لوگوں کا اونٹ بھاگ گیا۔ ان کے پاس گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایک شخص نے تیر مارا تو اللہ نے اس کو روک دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ یہی سلوک کر کے کھا لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18937
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18938
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18938