کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غیر سدھایا ہوا جانور جب کوئی شکار پکڑے تو اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ أَصِيدُ بِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: أَمَّا مَا صَادَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَأَمَّا مَا صَادَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ مِنْهُ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ عَنْ حَيْوَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَيْوَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارا علاقہ شکار والا ہے۔ میں وہاں سدھائے ہوئے اور بغیر سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔ آپ ہمیں بتائیں ہمارے لیے اس میں سے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو سدھایا ہوا کتا شکار کرے اور تیرے لیے شکار کو روک بھی لے تو اللہ کا نام لے کر کھا لو اور جو غیر سدھایا ہوا کتا شکار کرے، اگر آپ شکار کو ذبح کر لیں تو کھا لو، اگر ذبح کا موقع نہ مل سکے تو نہ کھاؤ۔“
(ب) حیوہ کی حدیث میں ہے کہ میں سدھائے اور غیر سدھائے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔
(ب) حیوہ کی حدیث میں ہے کہ میں سدھائے اور غیر سدھائے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔