کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بوقتِ ضرورت فدیہ اور اس جیسی دیگر مدات میں مال دینے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18826
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَى رَجُلًا بِرَجُلَيْنِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى وَمَضَى حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي اسْتَوْهَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص دو افراد کے عوض فدیہ میں دیا۔
(ب) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے جو عورت رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اس کے عوض کئی قیدی منگوائے۔
(ب) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے جو عورت رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اس کے عوض کئی قیدی منگوائے۔
حدیث نمبر: 18827
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّئِيسُ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ ". قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَانِي " الْأَسِيرُ. ⦗٣٧٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَعَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، قیدی آزاد کرو اور بیمار کی تیمار داری کرو۔“ سفیان کہتے ہیں کہ «الْعَانِي» سے مراد قیدی ہیں۔
حدیث نمبر: 18828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ الْوَحْيِ شَيْءٌ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: " الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِقَتْلِ مُشْرِكٍ ". وَقَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِمُطَرِّفٍ: وَمَا فِكَاكُ الْأَسِيرِ؟ قَالَ: أَنْ يُفَكَّ مِنَ الْعَدُوِّ، وَجَرَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. قَالَ مُطَرِّفٌ: الْعَقْلُ: الْمَعْقُلَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین! کیا آپ کے پاس وحی سے کوئی خاص چیز ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کچھ بھی نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا، صرف اس میں سوجھ بوجھ جو اللہ کسی انسان کو عطا کرتا ہے اور جو اس صحیفہ میں ہے۔“ میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ تو فرمانے لگے: ”دیت اور قیدیوں کی آزادی کے بارے میں اور یہ کہ ”کسی مومن کو مشرک کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔““ پھر کہتے ہیں: میں نے مطرف سے پوچھا: قیدی کو آزاد کرانا کیا ہے؟ فرماتے ہیں کہ دشمن سے آزاد کروائیں، اس طرح سنت جاری ہے اور صلت کہتے ہیں کہ دیت ادا کرنا۔