کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مسلمانوں کا دشمنوں کو کوئی چیز اس شرط پر دینا کہ وہ ان سے رک جائیں (جنگ نہ کریں)، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18822
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ الْقَتْلَ لِلْمُسْلِمِينَ شَهَادَةٌ، وَأَنَّ الْإِسْلَامَ أَعَزُّ مِنْ أَنْ يُعْطَى مُشْرِكٌ عَلَى أَنْ يَكُفَّ عَنْ أَهْلِهِ؛ لِأَنَّ أَهْلَهُ قَاتِلِينَ وَمَقْتُولِينَ ظَاهِرُونَ عَلَى الْحَقِّ. ⦗377⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فِي قِصَّةِ الْأَهْوَازِ أَنَّهُ قَالَ: فَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى جَنَّةٍ وَنَعِيمٍ لَمْ يُرَ مِثْلَهُ قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ مسلمانوں کے لیے قتل ہونا شہادت ہے، اور اسلام اس سے کہیں زیادہ باعزت ہے کہ کسی مشرک کو اس شرط پر (مال) دیا جائے کہ وہ اہل اسلام سے (جنگ کرنے سے) باز رہے، کیونکہ اہل اسلام خواہ قتل کرنے والے ہوں یا قتل ہونے والے، (ہر حال میں) حق پر غالب ہیں۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اہواز کے قصے کے بارے میں روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: ’ہمارے نبی (ﷺ) نے ہمیں ہمارے رب کے پیغام سے آگاہ فرمایا کہ ہم میں سے جو قتل ہو گا وہ ایسی جنت اور نعمتوں کی طرف جائے گا جن کی مثل کبھی دیکھی نہیں گئی، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بنے گا۔‘“...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18822
حدیث نمبر: 18822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ وَكَانَ اسْمُهُ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سَلِيمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ، وَكَانَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُخَيِّرُكَ بَيْنَ ثَلَاثِ خِصَالٍ: أَنْ يَكُونَ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَلِي أَهْلُ الْمَدَرِ، وَأَكُونَ خَلِيفَتَكَ مِنْ بَعْدِكَ أَوْ أَغْزُوَكَ بِغَطَفَانَ بِأَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ. قَالَ: فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَقَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَكْرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي، فَرَكِبَهُ فَمَاتَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ رَجُلٌ أَعْرَجُ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: كُونَا، يَعْنِي قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي كُنْتُ كَذَا، وَإِنْ قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ فَقَالَ: أَتُؤَمِّنُونَنِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ، وَأَوْمَوْا إِلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنْهُ. قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَأَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ، فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ فَقَتَلَ كُلَّهُمْ إِلَّا الْأَعْرَجَ كَانَ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ. قَالَ إِسْحَاقُ: فَحَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ: " إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنْا وَأَرْضَانَا "، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ماموں سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کو، جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے، ان ستر آدمیوں میں روانہ کیا جو بئر معونہ پر شہید کر دیے گئے۔ مشرکین کا سردار عامر بن طفیل نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”میں آپ کو تین باتوں میں اختیار دیتا ہوں: (پہلی یہ کہ) شہر والے لوگ («المَدَر») آپ کے لیے ہوں اور دیہاتی لوگ میرے لیے، (دوسری یہ کہ) میں آپ کے بعد خلیفہ ہوں گا اور (تیسری یہ کہ) میں آپ کے خلاف ایک ہزار سرخ و سفید رنگت والے نوجوانوں کے ساتھ جنگ کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ بنو فلاں کی ایک عورت کے گھر میں اسے طاعون کی بیماری لاحق ہو گئی، اس نے اپنا گھوڑا منگوایا اور وہ عامر بن طفیل اپنے گھوڑے پر سوار ہی فوت ہو گیا۔ (ادھر) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی سیدنا حرام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ دو شخص اور بھی چلے، ایک لنگڑا اور ایک بنو فلاں قبیلے کا شخص۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم دونوں میرے قریب رہو، میں ان کے پاس جاتا ہوں، اگر انہوں نے مجھے پناہ دے دی تو (بہتر ہے) اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر دیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔“ جب سیدنا حرام رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ”میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچاتا ہوں، کیا تم ایمان لاؤ گے؟“ انہوں نے (بظاہر) حامی بھری تو سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے انہیں وعظ کرنا شروع کر دیا، اسی دوران انہوں نے ایک شخص کو پیچھے سے بھیجا جس نے نیزہ مار کر سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ ہمام کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ جب انہیں نیزہ لگا تو انہوں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔“ پھر اس شخص نے باقی افراد کو بھی قتل کر ڈالا سوائے اس لنگڑے شخص کے، کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر (پہنچ گیا) تھا۔
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ان شہداء کے بارے میں یہ پیغام) ہمارے پاس لایا گیا، پھر یہ عبارت منسوخ ہو گئی کہ: «أَن قد لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا» ”ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہیں۔“ نبی ﷺ نے ستر دن تک رعل، ذکوان اور بنو لحیان کے قبیلوں پر بددعا کی کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18822
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٤٠٩١»
حدیث نمبر: 18823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ - وَكَانَ خَالَهُ - يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ فَقَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا يَنْضَحُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَبَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو، جو ان کے ماموں تھے، بئر معونہ کے دن نیزہ مارا گیا تو انہوں نے خون نکلتے وقت اسے اپنے چہرے اور سر پر ملتے ہوئے کہا: «فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18823
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٤٠٩٢»
حدیث نمبر: 18824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا خَلَفٌ هُوَ ابْنُ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْهِجْرَةِ، وَتَبِعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ قَالَ: فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ ⦗٣٧٨⦘ مَعُونَةَ، وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: مَنْ هَذَا؟ وَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ: هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ. قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ وَقَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَكُمْ أُصِيبُوا، وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ فَقَالُوا: رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ. قَالَ: وَأُصِيبَ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ عُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءِ بْنِ الصَّلْتِ، سُمِّيَ بِهِ عُرْوَةُ وَمُنْذِرُ بْنُ عُمَرَ وَسُمِّيَ بِهِ مُنْذِرٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی، انہوں نے ہجرت کے متعلقہ حدیث ذکر کی، ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے، کہتے ہیں: عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بئر معونہ کے دن قتل کر دیے گئے، عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ قیدی بنا لیے گئے، عامر بن طفیل نے مقتول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کون ہے؟ تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عامر بن فہیرہ ہیں۔ اس نے کہا: میں نے اس کے قتل کے بعد دیکھا کہ اسے آسمان و زمین کے درمیان اٹھایا گیا، راوی کہتے ہیں کہ ان کے قتل کی خبر نبی ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی شہید کر دیے گئے تو انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائیوں کو خبر دے دینا کہ تو ہم سے راضی اور ہم تجھ سے راضی ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: ان کی جانب سے خبر دی گئی۔ اس دن عروہ بن اسماء بن صلت جس کو عروہ اور منذر بن عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18824
درجۂ حدیث محدثین: صحيح ٤٠٩٣
تخریج حدیث «صحيح ٤٠٩٣»
حدیث نمبر: 18825
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ہی رہے گا، ان کو کوئی گمراہی نقصان نہ دے گی، یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور وہ اسی حالت پر رہے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18825
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»