حدیث نمبر: 18584
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". وَكَانُوا يُسَمُّونَهَا كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ: " اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". قَالَ: فَانْطَلَقَ فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ حُصَيْنَ بْنَ رَبِيعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا مِثْلَ الْجَمَلِ الْأَجْرَبِ. فَبَارَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں دو گے؟“ وہ اس کا نام کعبہ یمانیہ رکھتے تھے۔ ہم قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس شہسوار لے کر گئے لیکن میں گھڑ سواری نہیں کر سکتا تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا، آپ ﷺ کی انگلیوں کے نشانات میرے سینے پر موجود تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اسے توڑ کر آگ سے جلا ڈالا، پھر سیدنا حصین بن اسید رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا: ”ہم نے اسے خارشی اونٹ کی مانند چھوڑ دیا ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ احمس کے شہسواروں اور پیادہ پر پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 18585
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السِّقَاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِيُّ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَلَى رُقَيَّةَ ابْنَةِ ⦗٢٩٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ بَدْرٍ، فَجَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبِشَارَةِ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَمِعْتُ الْهَيْعَةَ فَخَرَجْتُ، فَإِذَا زَيْدٌ قَدْ جَاءَ بِالْبِشَارَةِ، فَوَاللهِ مَا صَدَّقْتُ حَتَّى رَأَيْنَا الْأُسَارَى، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِسَهْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عثمان بن عفان اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے لیے بدر سے پیچھے چھوڑا تو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی اونٹنی «الْعَضْبَاءُ» ”عضباء“ پر فتح کی خوش خبری لے کر آئے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے گھبراہٹ والی آواز سنی تو میں باہر آیا، وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے جو فتح کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے قیدی دیکھ کر اس کی تصدیق کی تو نبی ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے بدر کا حصہ مقرر فرمایا۔