کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو مالِ غنیمت میں ملنے والی زمینوں کی تقسیم کا قائل ہے اور جو اس کا قائل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18386
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، وَهَبَهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ فَقَالَ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن مطیع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مالِ غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہ ہوا بلکہ اونٹ، گائے، سامان اور باغ ملے۔ پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وادی قریٰ میں آئے تو آپ ﷺ کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا، یہ بنو ضباب کے ایک شخص نے آپ ﷺ کو ہبہ کیا تھا۔ ایک مرتبہ مدعم رسول اللہ ﷺ کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک اس کو نامعلوم جانب سے آنے والا تیر لگا جس سے وہ فوت ہو گیا۔ لوگوں نے کہا: مبارک ہو، یہ شخص جنتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک وہ چادر جس کو اس نے جنگ خیبر کے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھایا تھا، وہ اس پر آگ بن کر لپٹی ہوئی ہے۔“ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ ﷺ کے پاس لایا، اس نے کہا: یہ مجھے ملے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں۔“
حدیث نمبر: 18387
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٣٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجْلُوا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عَهْدَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ: " مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ؟ " فَقَالَ: أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ. فَقَالَ: " الْعَهْدُ قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ ". فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الزُّبَيْرِ فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ خَرِبَةً فَقَالَ: " قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَهُنَا ". فَذَهَبُوا وَطَافُوا فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي الْخَرِبَةِ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ بِالنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوا وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمْ مِنْهَا فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا. وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانٌ يَقُومُونَ عَلَيْهَا، وَكَانُوا لَا يَفْرُغُونَ أَنْ يَقُومُوا عَلَيْهَا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ عَنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ فَيَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، قَالَ: " يَا أَعْدَاءَ اللهِ تُطْعِمُونَِي السُّحْتَ؟ وَاللهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ بَيْنَكُمْ ". فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ. قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِ صَفِيَّةَ خُضْرَةً فَقَالَ: " يَا صَفِيَّةُ مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ ". فَقَالَتْ: كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ ابْنِ حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي وَقَالَ: تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ. قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلِيَّ، قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي فَمَازَالَ يَعْتَذِرُ إِلِيَّ وَيَقُولُ: " إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ "، حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ وَأَلْقَوَا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ فَفَدَعُوا يَدَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ⦗٢٣٣⦘ فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لَا تُخْرِجْنَا، دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَئِيسِهِمْ: أَتُرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ بِكَ إِذَا رَقَصَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ". وَقَسَمَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے جنگ کرتے ہوئے انہیں قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ آپ ﷺ نے ان کی زمین، زراعت اور کھجوروں کے باغات پر قبضہ کر لیا۔ آپ ﷺ نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ جو ان کی سواریاں لے جا سکیں وہ ان کا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے سونا چاندی ہے۔ وہ وہاں سے چلے گئے اور آپ ﷺ نے شرط رکھی کہ وہ کسی چیز کو نہیں چھپائیں گے۔ اگر انہوں نے کسی چیز کو چھپایا تو ان کا ذمہ اور کوئی عہد نہیں ہے۔ پھر بھی انہوں نے مال سے بھری ہوئی ایک کھال چھپا دی اور حیی بن اخطب کے زیورات، جو وہ خیبر لے کر آیا تھا بنو نضیر کی جلا وطنی کے موقع پر۔ رسول اللہ ﷺ نے حیی کے چچا سے پوچھا: ”حیی کی مال سے بھری ہوئی وہ مشک کہاں ہے جو بنو نضیر سے لے کر آیا تھا؟“ اس نے کہا: جنگوں اور اخراجات نے اس کو ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عہد قریب ہے اور مال اس سے بھی زیادہ ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، جس نے اسے سزا دی اور حیی اس سے پہلے ایک ویرانے میں داخل ہوا تھا۔ کہتے ہیں: میں نے حیی کو دیکھا کہ وہ اس ویرانے میں گھوم رہا تھا، وہاں گئے تو انہوں نے ویرانے میں مال کو پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے حقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا۔ ان میں سے ایک سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب کا خاوند تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا اور ان کے مالوں کو وعدہ کی خلاف ورزی کی بنا پر تقسیم کیا اور آپ ﷺ نے ان کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہمیں اس زمین پر برقرار رکھیے، ہم کھیتی باڑی کریں اور اس کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس غلام بھی نہ تھے جو اس کا خیال رکھتے اور نہ خود ہی فارغ تھے کہ وہاں ٹھہر سکتے۔ آپ ﷺ نے انہیں خیبر کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ کھیتی باڑی اور کھجوروں کا اندازہ کرتے، پھر نصف ان سے وصول کرتے۔ انہوں نے اندازہ کی سختی کی نبی ﷺ کو شکایت کی اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو رشوت دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! تم مجھے حرام کھلاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے اپنی جانب سب سے زیادہ محبوب شخص کے پاس سے آیا ہوں لیکن تمہاری عادت مجھے بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ بری لگتی ہے۔ تمہارا بغض اور ان کی محبت مجھے اس بات پر نہ ابھارے کہ میں عدل نہ کر سکوں۔ انہوں نے کہا: اسی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ میں سبز نشان دیکھا تو پوچھا: ”اے صفیہ! یہ کیا ہے؟“ کہتی ہیں کہ میں حقیق کے بیٹے کی گود میں سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ چاند میری گود میں گر پڑا ہے۔ میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تھپڑ دے مارا اور کہا: تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض تھے کہ آپ ﷺ نے میرے باپ اور خاوند کو قتل کیا تھا، وہ مجھ سے معذرت کرتے رہے اور فرمایا: ”تیرا باپ میرے نزدیک عرب کا عقل مند آدمی ہے، اس نے یہ کیا۔“ یہاں تک کہ میرے دل سے وہ بات ختم ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر عورت کو ہر سال اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور پریشانیوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو چھت پر چڑھایا اور ان کے ہاتھوں کے جوڑ نکال دیے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کا خیبر میں حصہ ہو وہ آئے کہ ہم ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی۔ ان کے سردار نے کہا: آپ ہمیں جلا وطن نہ کریں۔ بلکہ جیسے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں برقرار رکھا ویسے ہی رہنے دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سردار سے یہ بات کہی: کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بات بھول گیا ہوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تیری کیا حالت ہوگی جب تیری سواری تجھے تین دن تک شام کی جانب لے کر جائے گی؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ والوں میں جو غزوہ خیبر میں موجود تھے ان کے حصے تقسیم کر دیے۔
حدیث نمبر: 18388
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا، جَمَعَ كُلَّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ، فَكَانَ النِّصْفُ سِهَامًا لِلْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَزَلَ النِّصْفَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنَ الْأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّهُ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً وَبَعْضَهَا صُلْحًا، فَمَا قَسَمَ بَيْنَهُمْ هُوَ مَا افْتَتَحَهُ عَنْوَةً، وَمَا تَرَكَهُ لِنَوَائِبِهِ هُوَ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
بشیر بن یسار نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر کو فتح کیا اور مالِ غنیمت کو 36 حصوں میں تقسیم کر دیا اور تمام حصے سو میں تقسیم کیے۔ نصف حصے مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے تھے اور نصف حصے ان کے لیے الگ کر لیے جن کو مختلف امور سر انجام دینے پر مقرر کیا ہوا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ، جو آپ ﷺ نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔
شیخ فرماتے ہیں: خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ، جو آپ ﷺ نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔
حدیث نمبر: 18389
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا بعض حصہ لڑائی کے ذریعے فتح کیا۔
حدیث نمبر: 18390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا افْتُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر دوسرے مسلمان نہ ہوئے تو ہر فتح ہونے والی بستی کو ہم تقسیم کر دیتے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا۔
حدیث نمبر: 18391
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ النَّاسَ يَبَابًا لَا شَيْءَ لَهُمْ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَسْتَطِيبُ قُلُوبَهُمْ، ثُمَّ يَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ نَظَرًا لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: اگر میں لوگوں کو اس حالت میں نہ چھوڑوں کہ ان کے لیے کوئی چیز نہ ہو، جو بستی بھی فتح ہو تو میں اسے تقسیم کر دوں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: یہی ہمارا موقف ہے، ان کے دلوں کی چاہت تھی لیکن پھر بھی انہوں نے مسلمانوں کے فائدے کے لیے اسے وقف کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: یہی ہمارا موقف ہے، ان کے دلوں کی چاہت تھی لیکن پھر بھی انہوں نے مسلمانوں کے فائدے کے لیے اسے وقف کر دیا۔
حدیث نمبر: 18392
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢٣٤⦘ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ: أَصَابَ النَّاسَ فَتْحٌ بِالشَّامِ فِيهِمْ بِلَالٌ، وَأَظُنُّهُ ذَكَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَذَا الْفَيْءَ الَّذِي أَصَبْنَا لَكَ خُمُسُهُ وَلَنَا مَا بَقِيَ، لَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْهُ شَيْءٌ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَا قُلْتُمْ وَلَكِنِّي أَقِفُهَا لِلْمُسْلِمِينَ، فَرَاجَعُوهُ الْكِتَابَ وَرَاجَعَهُمْ يَأْبَوْنَ وَيَأْبَى، فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِي بِلَالًا وَأَصْحَابَ بِلَالٍ، قَالَ: فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَا قُلْتُمْ، لَيْسَ يُرِيدُ بِهِ إِنْكَارَ مَا احْتَجُّوا بِهِ مِنْ قِسْمَةِ خَيْبَرَ، فَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ لَيْسَتِ الْمَصْلَحَةُ فِيمَا قُلْتُمْ وَإِنَّمَا الْمَصْلَحَةُ فِي أَنْ أَقِفَهَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَجَعَلَ يَأْبَى قِسْمَتَهَا لِمَا كَانَ يَرْجُو مِنْ تَطْيِيبِهِمْ ذَلِكَ وَجَعَلُوا يَأْبَوْنَ لِمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الْحَقِّ، فَلَمَّا أَبَوْا لَمْ يُبْرِمْ عَلَيْهِمُ الْحُكْمَ بِإِخْرَاجِهَا مِنْ أَيْدِيهِمْ وَوَقْفِهَا، وَلَكِنْ دَعَا عَلَيْهِمْ حَيْثُ خَالَفُوهُ فِيمَا رَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ وَهُمْ لَوْ وَافَقُوهُ وَافَقَهُ أَفْنَاءُ النَّاسِ وَأَتْبَاعُهُمْ. وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْقَسْمِ فِي فَتْحِ مِصْرَ أَنَّهُ رَأَى ذَلِكَ وَرَأَى الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِسْمَتَهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
جریر بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو شام کی فتح نصیب ہوئی، جن میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، میرا گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مالِ فئے میں سے پانچواں حصہ آپ کا اور باقی ہمارا ہے، کسی اور کا کوئی حصہ نہیں، جیسا کہ نبی ﷺ نے خیبر کے موقع پر کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تمہاری بات درست نہیں بلکہ میں اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا؛ کیونکہ وہ اس کی امید کیے بیٹھے تھے اور انہوں نے بھی واپس کرنے سے انکار کر دیا؛ کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔ جب انہوں نے انکار کر دیا تو ان پر ان کے ہاتھوں خراج لینے کا حکم باقی رہے گا اور اس زمین کو وقف سمجھا جائے گا۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف بددعا کی، جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مصلحت کی مخالفت کی۔ اگر وہ ان کی موافقت کرتے تو غیر معروف لوگ اور ان کے پیروکار اس کی موافقت کرتے۔
(ب) فتح مصر کے بارے میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کر دیا جائے، جیسے رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
(ب) فتح مصر کے بارے میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کر دیا جائے، جیسے رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
حدیث نمبر: 18393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ثنا الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا قَرْيَةٍ افْتَتَحَهَا اللهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ افْتَتَحَهَا الْمُسْلِمُونَ عَنْوَةً فَخُمُسُهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَبَقِيَّتُهَا لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهَا ". قَالَ أَبُو الْفَضْلِ الدُّورِيُّ: أَبُو سَلَمَةَ هَذَا هُوَ عِنْدِي صَاحِبُ الطَّعَامِ أَوْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بستی اللہ اور اس کے رسول ﷺ فتح کریں تو یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے، اور جس بستی کو جنگ کے ذریعے فتح کریں، اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول ﷺ کا اور باقی حصہ لڑائی کرنے والوں کا ہے۔“