کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرکین میں سے جنہیں (اسلام کی) دعوت نہیں پہنچی انہیں دعوت دینا واجب ہے، اور جنہیں پہنچ چکی ہے انہیں از راہِ مصلحت دعوت دینے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ ". فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗١٨١⦘ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ مَكَانَهُ، حَتَّى لَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا. قَالَ: " عَلَى رِسْلِكَ، انْفُذْ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ الرَّجُلَ الْوَاحِدَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خیبر کے دن سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائیں گے۔“ لوگ رات کو باتیں کرتے رہے کہ جھنڈا کس کو دیا جائے گا۔ صبح کے وقت لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس امید سے گئے کہ جھنڈا انہیں دیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھیں خراب ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا اور ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا کی۔ وہ اسی وقت تندرست ہو گئے گویا کہ انہیں کوئی بیماری تھی ہی نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی کریں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آرام سے چلو یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو خبر دو کہ کیا چیز ان پر حقوق سے واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تیری وجہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى يَعْنِي الذُّهْلِيَّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے کسریٰ، قیصر اور ہر سردار کی طرف خط لکھا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ حَتَّى يَدْعُوَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی کسی قوم سے لڑائی نہیں کی یہاں تک کہ ان کو دعوت دے دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُسَارَى مِنَ اللَّاتِ وَالْعُزَّى. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ دَعَوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ ". فَقَالُوا: لَا. فَقَالَ لَهُمْ: " هَلْ دَعَوْكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ " فَقَالُوا: لَا. قَالَ: " خَلُّوا سَبِيلَهُمْ حَتَّى يَبْلُغُوا مَأْمَنَهُمْ ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا} [الأحزاب: ٤٦]، {وَأُوحِيَ إِلِيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللهِ آلِهَةً أُخْرَى} [الأنعام: ١٩] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لات و عزیٰ کے قیدی لائے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے انہیں فرمایا: ”کیا تمہیں انہوں نے اسلام کی جانب بلایا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ امن کی جگہ پہنچ جائیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ دو آیات تلاوت کیں: ”بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ (بنا کر)۔“ [سورة الأحزاب: 46] اور ”اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے، کیا تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں؟“ [سورة الأنعام: 19] آیت کے آخر تک۔
روح بن مسافر ضعیف ہے۔
روح بن مسافر ضعیف ہے۔