❮
❯
حدیث نمبر: 18233
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُسَارَى مِنَ اللَّاتِ وَالْعُزَّى. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ دَعَوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ ". فَقَالُوا: لَا. فَقَالَ لَهُمْ: " هَلْ دَعَوْكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ " فَقَالُوا: لَا. قَالَ: " خَلُّوا سَبِيلَهُمْ حَتَّى يَبْلُغُوا مَأْمَنَهُمْ ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا} [الأحزاب: ٤٦]، {وَأُوحِيَ إِلِيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللهِ آلِهَةً أُخْرَى} [الأنعام: ١٩] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لات و عزیٰ کے قیدی لائے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے انہیں فرمایا: ”کیا تمہیں انہوں نے اسلام کی جانب بلایا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ امن کی جگہ پہنچ جائیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ دو آیات تلاوت کیں: ”بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ (بنا کر)۔“ [سورة الأحزاب: 46] اور ”اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے، کیا تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں؟“ [سورة الأنعام: 19] آیت کے آخر تک۔
روح بن مسافر ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18233
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»