کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اہلِ قلعہ یا ان میں سے بعض کا امام یا غیر امام کے فیصلے پر قلعے سے نیچے اترنا، بشرطیکہ جس کے فیصلے پر اترا جائے وہ قابلِ اعتماد ہو۔
حدیث نمبر: 18184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ، فَقَالَ: " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ "، فَقَعَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ. قَالَ: " فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ والوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصل مانا، رسول اللہ ﷺ نے ان کی جانب پیغام بھیجا، وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سردار یا اپنے بہتر انسان کی جانب اٹھو۔“ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد! یہ تیرے فیصلے پر راضی ہوئے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 18185
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حَبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ، رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللهِ مَا وَضَعْنَاهَا اخْرُجْ إِلَيْهِمْ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ؟ ". قَالَ: هَهُنَا، وَأَشَارَ ⦗١٦٥⦘ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَتُسْبَى الذُّرِّيَّةُ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ. قَالَ أَبِي: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خندق کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو زخم لگا، جو حبان بن عرقہ قریشی نے لگایا تھا۔ اس نے رگِ حیات پر تیر مارا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تاکہ قریب سے ان کی تیمار داری کرسکیں۔ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق سے واپس آئے، اپنے ہتھیار اتار دیے اور غسل کرلیا، اس وقت جبرائیل علیہ السلام اپنے سر سے غبار کو جھاڑتے ہوئے آئے۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے اسلحہ اتار دیا، اللہ کی قسم! ہم نے اسلحہ نہیں اتارا، آپ ان کی جانب نکلیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کہاں؟“ جبرائیل علیہ السلام نے وہاں بنو قریظہ کی جانب اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ ان کی جانب گئے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اتر پڑے، پھر آپ ﷺ نے فیصلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی جانب منتقل کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے کہ لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا جائے، بچوں کو قیدی بنایا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کیا جائے۔ میرے والد کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ دیا۔“
حدیث نمبر: 18186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللهِ أَمْ لَا. " زَادَ فِيهِ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو لشکر کا امیر بناتے تو اسے خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی اور مومنوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کریں، اگر وہ چاہیں کہ آپ ان کو اللہ کے حکم پر اتاریں تو آپ ایسا نہ کریں۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ اللہ کے حکم کو پا سکیں گے یا نہیں۔“ (ب) وکیع سفیان سے نقل فرماتے ہیں: ”لیکن انھیں اپنے حکم پر اتارو، پھر ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔“
حدیث نمبر: 18187
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔