حدیث نمبر: 18180
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَإِذَا حَاصَرْتُمْ قَصْرًا فَأَرَادُوكُمْ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلُوهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللهِ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ مَا أَحْبَبْتُمْ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: لَا تَخَفْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، وَإِذَا قَالَ: مِتْرَسٌ فَقَدْ أَمَّنَهُ، وَإِذَا قَالَ لَهُ: أَظُنُّهُ لَا تَدْهَلْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَقَالَ فِي آخِرِهِ: " وَإِنْ قَالَ لَا تَذْهَلْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ "..
حافظ ثناء اللہ
ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور ان کا ارادہ ہو کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو ایسا نہ کرنا؛ کیونکہ تم نہیں جانتے ان کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے بلکہ اپنے حکم پر اتارو، پھر اپنی مرضی کا ان کے بارے میں فیصلہ کرو اور جب کوئی شخص کسی آدمی سے کہے: تو ڈر نہیں، اس نے تجھے امن دے دیا ہے اور جب اس نے لفظ «مَتْرَسْ» (متوسی) کہا تو اس نے امن دے دیا اور جب اس نے «لَا تَدْخُلْ» ”تم داخل نہ ہو“ کے الفاظ کہہ دیے تب بھی پناہ دے دی، اللہ تعالیٰ زبانوں کو جانتے ہیں۔
ثوری رحمہ اللہ اعمش رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں، جس کے آخر میں ہے کہ «لَا تَدْخُلْ» ”تم داخل نہ ہو“ کے الفاظ کے ساتھ بھی پناہ دی جاتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبانوں کو جانتے ہیں۔
ثوری رحمہ اللہ اعمش رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں، جس کے آخر میں ہے کہ «لَا تَدْخُلْ» ”تم داخل نہ ہو“ کے الفاظ کے ساتھ بھی پناہ دی جاتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبانوں کو جانتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18181
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ مُحَاصِرُونَ قَصْرًا فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس وقت ہم ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 18182
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ لَفْظًا، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَذَلِكَ، إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَازِ قَدْ أُسِرَ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِلْهُرْمُزَانِ: أَيَسُرُّكَ أَنْ لَا تُقْتَلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِذَا قَرَّبُوكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَكَلَّمَكَ فَقُلْ: إِنِّي أَفْرَقُ أَنْ أُكَلِّمَكَ، فَيَقُولُ: لَا تَفْرَقْ، فَإِنْ أَرَادَ قَتْلَكَ فَقُلْ: إِنِّي فِي أَمَانٍ، إِنَّكَ قُلْتَ لَا تَفْرَقْ. قَالَ: فَحَفِظَهَا الرَّجُلُ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ فِي بَعْضِ مَا يُسَائِلُهُ عَنْهُ: " إِنِّي أَفْرَقُ ". يَعْنِي، فَقَالَ: لَا تَفْرَقْ. قَالَ: " فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ كَلَامِهِ سَاءَلَهُ عَمَّا شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ لَهُ: " إِنِّي قَاتِلُكَ "، قَالَ: فَقَالَ: فَقَدْ أَمَّنْتَنِي. فَقَالَ: " وَيْحَكَ مَا أَمَّنْتُكَ ". قَالَ: قُلْتَ: لَا تَفْرَقْ. قَالَ: " صَدَقَ إِمَّا لَا فَأَسْلِمْ ". قَالَ: نَعَمْ. فَأَسْلَمَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرکین سے جہاد کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہرمزان سے کہا: کیا آپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کیے جائیں؟ اس نے کہا: وہ کیسے؟ انھوں نے کہا: جب وہ تجھے امیر المؤمنین کے قریب کریں اور وہ تم سے بات کرنا چاہیں تو تم کہنا: میں تنہائی میں آپ سے بات کروں گا، پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا: میں امان میں ہوں، وہ «لَا تَفْرَقْ» کہہ دیں گے۔ اس شخص نے یہ بات یاد کر لی۔ پھر جب اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو اس نے سوالات کا جواب دینے کے لیے تنہائی کا مطالبہ کر دیا۔ آپ نے فرمایا: «لَا تَفْرَقْ» ”پریشان نہ ہو“۔ پھر جب آپ اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئے تو انھیں گرانی محسوس ہوئی اور فرمایا: میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا: آپ نے مجھے امان دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا ناس ہو! میں نے تجھے کب امان دی؟ اس نے کہا: آپ نے «لَا تَفْرَقْ» کہا ہے۔ فرمایا: اس نے سچ کہا اور فرمایا: اب تو میرے لیے اسلام قبول کر۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔۔۔ آگے طویل حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 18183
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْهُرْمُزَانُ عَلَى حُكْمِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَدِمْتُ بِهِ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " تَكَلَّمْ "، قَالَ: كَلَامُ حَيٍّ، أَوْ كَلَامُ مَيِّتٍ؟ قَالَ: " تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ ". قَالَ: إِنَّا وَإِيَّاكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّى اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، كُنَّا نَتَعَبَّدُكُمْ وَنَقْتُلُكُمْ وَنَغْصِبُكُمْ، فَلَمَّا كَانَ اللهُ مَعَكُمْ لَمْ يَكُنْ لَنَا يَدَانِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا تَقُولُ؟ ". فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَرَكْتُ بَعْدِي عَدُوًّا كَثِيرًا وَشَوْكَةً شَدِيدَةً، فَإِنْ قَتَلْتَهُ يَأْيَسِ الْقَوْمُ مِنَ الْحَيَاةِ وَيَكُونُ أَشَدَّ لِشَوْكَتِهِمْ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَسْتَحْيِي قَاتِلَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَمَجْزَأَةَ بْنِ ثَوْرٍ؟ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَهُ قُلْتُ: لَيْسَ إِلَى قَتْلِهِ سَبِيلٌ، قَدْ قُلْتَ لَهُ: تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ارْتَشَيْتَ وَأَصَبْتَ مِنْهُ ". فَقَالَ: وَاللهِ مَا ارْتَشَيْتُ وَلَا أَصَبْتُ مِنْهُ. قَالَ: " لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا شَهِدْتَ بِهِ بِغَيْرِكَ أَوْ لَأَبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِكَ ". قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَقِيتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ مَعِي، وَأَمْسَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَسْلَمَ، يَعْنِي الْهُرْمُزَانَ وَفَرَضَ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے تستر کا محاصرہ کیا، ہرمزان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر نیچے اترا، میں اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر چلا، جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو، اس نے پوچھا: زندہ والی بات کروں یا مردہ والی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو، کوئی حرج نہیں، اس نے کہا: ہم اور آپ عرب کے قبائلی ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ نے کوئی علیحدگی نہیں رکھی تھی، ہم تم پر غالب تھے، تمہیں قتل کرتے تھے اور تمہارا مال غصب کرتے تھے، پھر جب اللہ تمہارے ساتھ ہو لیا تو ہمارے دونوں ہاتھ نہ رہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنے پیچھے بہت زیادہ دشمن اور سخت شورش چھوڑی ہے، اگر آپ اسے قتل کر دیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہو جائیں گے اور ان کی شورش میں اضافہ ہو جائے گا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے براء بن مالک اور مجزہ بن ثور رضی اللہ عنہما کے قتل سے حیاء آتی ہے، جب میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ اسے قتل ہی کریں گے تو میں نے کہا: آپ کے لیے اسے قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، آپ اسے کہہ چکے ہیں: بات کرو، کوئی حرج نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے رشوت لی ہے اور تو درستگی کو پہنچا، میں نے کہا: قسم بخدا! نہ تو میں نے رشوت لی ہے اور نہ ہی کسی بھلائی کو پہنچا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو میرے پاس اس بات پر کوئی گواہ لاؤ ورنہ میں تجھے ضرور سزا دے کر رہوں گا، کہتے ہیں: میں نکلا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ رک گئے اور ہرمزان مسلمان ہو گیا اور ان کے لیے مقرر کیا گیا۔