حدیث نمبر: 17972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: فَكَتَبَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ ". قَالَ يَحْيَى: أَحْسِبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ. وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے لڑائی سے پہلے دعا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکھا: یہ ابتداے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا)، وہ بھی حملہ کرنے کے لیے تیار تھے، ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ ان کے لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور اس دن جویریہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف لاحق ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 17973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، ثنا قُتَيْبَةُ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةُ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْعَزْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَلَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا كَتَبَ اللهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ غَنَائِمَهُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَادَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَصَارَتْ بِلَادُهُمْ دَارَ الْإِسْلَامِ، وَبَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ يَأْخُذُ صَدَقَاتِهِمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ مُجِيبًا لَهُ عَنْ ذَلِكَ: " أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ غَارُّونَ فِي نِعَمِهِمْ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَاهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فِي دَارِهِمْ سَنَةَ خَمْسٍ، وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَهَا بِزَمَانٍ، وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَيْهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ مُصَدِّقًا سَنَةَ عَشْرٍ، وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، وَدَارُهُمْ دَارُ حَرْبٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَوْلُهُ: " إِنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ خَمْسٍ فَكَذَلِكَ قَالَهُ عُرْوَةُ، وَابْنُ شِهَابٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو صرمہ رضی اللہ عنہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ کچھ مال دے کر فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں، تو ہم نے کہا: ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں؟ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو، جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے، قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔“
اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہما اللہ کا موقف ہے۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار الاسلام میں شامل ہو گیا اور آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ ان کے قیدیوں کو قتل کیا گیا اور مالوں اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا، جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ ﷺ ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ پانچ ہجری کو ہوا، اسی طرح عروہ اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہما اللہ کا موقف ہے۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار الاسلام میں شامل ہو گیا اور آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ ان کے قیدیوں کو قتل کیا گیا اور مالوں اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا، جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ ﷺ ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ پانچ ہجری کو ہوا، اسی طرح عروہ اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17974
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، ح، قَالَ: وَثَنَا يَعْقُوبُ، وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي ذِكْرِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَاتَلَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَبَنِي لِحْيَانَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ. وَهَذَا أَصَحُّ مِمَّا رُوِيَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ سِتٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ رسول اللہ ﷺ کے غزوات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بنو مصطلق اور بنو لحیان کے غزوات شعبان پانچ ہجری کو ہوئے ہیں۔ یہ ابن اسحاق رحمہ اللہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں چھ ہجری بتایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 17975
وَأَمَّا بَعْثُهُ الْوَلِيدَ مُصَدِّقًا فَفِيمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ ⦗٩٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيَأْخُذَ مِنْهُمُ الصَّدَقَاتِ، وَأَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِيَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِيدُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا يَتَلَقَّوْنَهُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَةَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنْ يَغْزُوَهُمْ إِذْ أَتَاهُ الْوَفْدُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَكَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِيقِ، وَإِنَّا خَشِينَا أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا رَدَّهُ كِتَابٌ جَاءَهُ مِنْكَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَهُ عَلَيْنَا، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْتَبَهُمْ وَهَمَّ بِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَهُمْ فِي الْكِتَابِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: ٦] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ولید بن عقبہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آئی تو وہ خوش ہوئے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلے تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں، جب ولید رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ وہ استقبال کے لیے آ رہے ہیں تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ ﷺ (یہ سن کر) ناراض ہوئے، ابھی آپ ﷺ ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے، ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی غصے کی وجہ سے ہے جو آپ کو ہم پر آیا ہو، اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ ان سے (اپنا ارادہ) چھپا رہے تھے اور ان پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا، ارشاد فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔“
حدیث نمبر: 17976
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيُصَدِّقَهُمْ، فَتَلَقَّوْهُ بِالْهَدِيَّةِ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ أَجْمَعُوا لَكَ لِيُقَاتِلُوكَ. فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: ٦] الْآيَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَالَّذِي يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بَعْدَ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ بِمُدَّةٍ كَثِيرَةٍ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ سَنَةَ عَشْرٍ، كَمَا حَفِظَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ صَبِيًّا، وَذَلِكَ سَنَةَ ثَمَانٍ، وَلَا يَبْعَثُهُ مُصَدِّقًا إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَصِيرَ رَجُلًا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے تحائف لے کر ان کا استقبال کیا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ گئے اور کہا کہ بنو مصطلق نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو“
شیخ نے فرمایا: جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور یہ مدت تقریباً دس سال ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ ﷺ نے ان کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہو گئے تھے۔
شیخ نے فرمایا: جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور یہ مدت تقریباً دس سال ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ ﷺ نے ان کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 17977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةِ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ وَيَدْعُو لَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ، فَلَمَّا رَآنِي لَمْ يَمْسَسْنِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا الْخَلُوقُ الَّذِي خَلَّقَتْنِي أُمِّي ". ⦗٩٥⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ ﷺ کے پاس لاتے، آپ ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا، میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ ﷺ نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 17978
وَحَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: " وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ سَلَحَ يَوْمَئِذٍ فَتَقَذَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَمَسَّهُ، وَلَمْ يَدْعُ لَهُ، وَمُنِعَ بَرَكَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَابِقِ عِلْمِ اللهِ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا (باقی حدیث پہلی سند والی ہے)۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس نے ایک دن پاخانہ کیا، اس کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا، پھر اس کو نہ چھوا اور نہ اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس کو رسول اللہ ﷺ کی برکت سے منع کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کو اس کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔
حدیث نمبر: 17979
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ رَكِبَ، فَقَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَهُمْ يَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ حَمَّادٌ: وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟ فَقَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا. فَتَبَسَّمَ. ⦗٩٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ وہ لوگ نکلے، گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”محمد اور ان کا لشکر۔“ حماد کہتے ہیں: خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، پھر ان کو رسول اللہ ﷺ کے حصے میں دے دیا گیا۔ آپ ﷺ نے ان سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا تو نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ ﷺ نے مہر کیا رکھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے ان کا مہر ان کے نفس کی آزادی رکھا تھا، تو وہ مسکرا دیے۔
حدیث نمبر: 17980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا بَهْزٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، ثنا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَ: أَصْلِحِيهَا. قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ، نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ ". قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضَلِ السَّوِيقِ، وَفَضَلِ السَّمْنِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ. قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ مَشَيْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعْنَا مَطِيَّتَنَا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ. قَالَ: وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا، فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ. قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُهَا. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: لَمْ نُضَرَّ. قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا ". لَفْظُ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَاشِمٍ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى وُقُوعِ قِسْمَةِ غَنِيمَةِ خَيْبَرَ بِخَيْبَرَ. قَالَ أَبُو يُوسُفَ: إِنَّهَا حِينَ افْتَتَحَهَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَعَامَلَهُمْ عَلَى النَّخْلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " أَمَّا خَيْبَرُ فَمَا عَلِمْتُهُ كَانَ فِيهَا مُسْلِمٌ وَاحِدٌ مَا صَالَحَ إِلَّا الْيَهُودَ، وَهُمْ عَلَى دِينِهِمْ، وَمَا حَوْلَ خَيْبَرَ كُلُّهُ دَارُ حَرْبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غنیمت کی تقسیم میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے اور وہ کہتے تھے: ”ہم نے قیدیوں میں ان جیسا نہیں دیکھا۔“ آپ ﷺ نے سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا اور انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بدلے میں کچھ عطا فرمایا، پھر انہیں (سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو) میرے مال کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”ان کا معاملہ درست کرو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ خیبر سے نکلے، جب وہ پیچھے رہ گیا تو آپ ﷺ نے پڑاؤ کیا اور آپ ﷺ کا خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو وہ لائے۔“ پس لوگ چیزیں لانا شروع ہوئے، کھجوریں، ستو اور گھی لایا گیا۔ جب یہ کھانے کا ایک بڑا ڈھیر بن گیا تو لوگ اس میں سے کھانے لگے اور وہ اپنے حوضوں میں جمع شدہ اس پانی سے پینے لگے جو آسمانی بارش سے جمع ہوا تھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ولیمہ تھا جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پر کیا گیا تھا۔ پھر ہم نکلے یہاں تک کہ ہم نے مدینہ کی دیواروں کو دیکھنا شروع کیا، ہم ان کی طرف بڑھے، ہم نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی سواری کو تیز کیا، جبکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ اچانک رسول اللہ ﷺ کی سواری پھسل گئی، پس آپ ﷺ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر پڑے۔ ہم میں سے کسی نے نہ آپ ﷺ کی طرف دیکھا اور نہ ہی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر پردہ ڈال دیا۔ پھر ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں چوٹ نہیں آئی۔“ جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کی سہیلیاں نکلیں، وہ انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ان کی آمد پر خوش ہو رہی تھیں۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار السلام بن گیا اور آپ ﷺ نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ ﷺ نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار السلام بن گیا اور آپ ﷺ نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ ﷺ نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔
حدیث نمبر: 17981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا، فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ، وَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ فَأَخْرَجَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے اس بات پر معاملہ طے کیا کہ ”ہم جب چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔“ جس کا کوئی مال ہو وہ اس کو تابع کرلے، میں یہود کو نکال رہا ہوں، پھر آپ نے ان کو نکال دیا۔
حدیث نمبر: 17982
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، وَالْحَسَنُ النَّسَوِيُّ، قَالُوا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ⦗٩٧⦘ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي فِي حَجَّتِهِ، عُمْرَةً فِي الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ ". هَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ. وَقَالَ الْحَسَنُ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. وَقَالَ أَبُو يَعْلَى عُمْرَتَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِهِ أَبُو يُوسُفَ مِنْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ غَنَائِمَ بَدْرٍ حَتَّى وَرَدَ الْمَدِينَةَ، وَمَا ثَبَتَ مِنَ الْحَدِيثِ بِأَنْ قَالَ: وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِعُثْمَانَ وَطَلْحَةَ وَلَمْ يَشْهَدَا بَدْرًا، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ فَهُوَ يُخَالِفُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِمَامِ أَنْ يُعْطِيَ أَحَدًا لَمْ يَشْهَدِ الْوَقْعَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَدَدًا، وَلَيْسَ كَمَا قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَدْرٍ بِسَيْرِ شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ الصَّفْرَاءِ، قَرِيبٍ مِنْ بَدْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے عمرہ کے علاوہ چار عمرے کیے، باقی سب ذی القعدہ میں تھے؛ ایک عمرہ حدیبیہ میں یا حدیبیہ کی صلح کے موقع پر ذی القعدہ میں ہوا، اور ایک عمرہ آئندہ سال، اور ایک جعرانہ سے لوٹنے پر جب آپ حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے آئے تھے اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ابراہیم کی حدیث ہے جبکہ حسن نے بالکل «عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ» ”حدیبیہ سے ایک عمرہ“ کہا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے حنین کے مقام پر ہی غنیمت کا مال بھی تقسیم کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کا مالِ غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا عثمان اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہما کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو، جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کی غنیمتیں ”سبر“ نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کا مالِ غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا عثمان اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہما کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو، جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کی غنیمتیں ”سبر“ نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔
حدیث نمبر: 17983
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِيقٍ يُقَالُ لَهُ الصَّفْرَاءُ، خَرَجَ مِنْهُ إِلَى كَثِيبٍ يُقَالُ لَهُ سَيْرٌ عَلَى مَسِيرَةِ لَيْلَةٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفَلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ذَلِكَ الْكَثِيبِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے، جب آپ اس درے سے نکلے جسے صفراء کہا جاتا ہے تو آپ وہاں سے اس ٹیلے کی طرف نکلے جسے سبر کہا جاتا ہے، یہ مقام بدر سے ایک رات کی مسافت کے برابر دوری پر ہے یا اس سے بھی زیادہ، پھر آپ ﷺ نے اس ٹیلے کے پاس مال غنیمت تقسیم فرمایا۔
حدیث نمبر: 17984
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ بِثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ، كَمَا خَرَجَ طَالُوتُ فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ ". فَفَتَحَ اللهُ لَهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَانَتْ غَنَائِمُ بَدْرٍ كَمَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ غَنِمَهَا الْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْآيَةُ فِي سُورَةِ الْأَنْفَالِ، فَلَمَّا تَشَاحُّوا عَلَيْهَا انْتَزَعَهَا اللهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ بِقَوْلِهِ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین سو پندرہ نفوس کے ساتھ بدر کی طرف نکلے جیسے طالوت نکلا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا کی، جب وہ نکلے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» ”اے اللہ! یہ بغیر سواری کے ننگے پاؤں ہیں، اے اللہ! تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ! یہ ننگے بدن ہیں ان کو پہنا، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدر کے دن فتح دی، وہ واپس آئے تو ہر آدمی ایک یا دو اونٹ لے کر آیا، انہوں نے پہنا اور سیر ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، یہ سورہ انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ ان سے چھین لیا ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، یہ سورہ انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ ان سے چھین لیا ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“
حدیث نمبر: 17985
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، فَلَقِيَ بِهَا الْعَدُوَّ فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى النَّهْبِ وَالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا رَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوا الْعَدُوَّ، قَالُوا: لَنَا النَّفَلُ؛ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ وَهَزَمَهُمْ. وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا بَلْ هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهُ مِنَ الْعَدُوِّ غِرَّةٌ. وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ وَالنَّهْبِ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا بَلْ هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَيْهِ وَأَحْرَزْنَاهُ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] الْآيَةَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فُوَاقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے۔ دشمن سے آمنا سامنا ہوا۔ جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمانوں کے ایک لشکر نے دشمن کا پیچھا کیا۔ وہ ان کو قتل کرتا تھا اور ایک دستہ رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ ایک دستہ مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کر رہا تھا۔ جب دشمن کا تعاقب کرنے والے لوٹے تو انہوں نے کہا: ”غنیمت ہمارے لیے ہے کیونکہ ہم نے دشمن کا تعاقب کیا ہے اور ہمارے ذریعے اللہ نے ان کو بھگا دیا اور ان کو شکست دی۔“ جنہوں نے آپ ﷺ کو گھیرے میں لے رکھا تھا انہوں نے کہا: ”تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو؟ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے رکھا کہ کہیں ان کو دشمن نقصان نہ پہنچائے۔“ اور جنہوں نے مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کیا انہوں نے کہا: ”تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں۔ ہم نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی حفاظت کی ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل کی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“ کچھ دیر بعد رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کو ان میں برابر تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 17986
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأَنْفَالِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا انْتَزَعَهُ اللهُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِهِ، فَقَسَمَهُ عَلَى النَّاسِ عَنْ سَوَاءٍ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ تَقْوَى اللهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١]. وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ بِأَسْرِهَا فِي أَهْلِ بَدْرٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا خَالِصًا، وَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ، وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ ثَمَانِيَةَ نَفَرٍ لَمْ يَشْهَدُوا الْوَقْعَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انفال کے بارے میں سوال کیا، اس کے آخر میں ہے کہ جب ہم نے اختلاف کیا اور ہمارا رویہ برا ہو گیا تو اللہ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا دیا۔ آپ ﷺ نے اس کو لوگوں میں برابر تقسیم کر دیا۔ یہ اللہ سے ڈرنے اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت میں لوگوں کے درمیان صلح کا طریقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔“
ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے زہری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، سورہ انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کا سارا مال رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا، آپ ﷺ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے، جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا؛ ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے زہری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، سورہ انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کا سارا مال رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا، آپ ﷺ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے، جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا؛ ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 17987
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَحَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَلَمْ يَشْهَدْهَا، ثُمَّ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، فَمَنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، تَخَلَّفَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ وَجِعَةً ⦗٩٩⦘ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ " وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: كَانَ بِالشَّامِ فَقَدِمَ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، فَقَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " وَأَجْرُكَ " وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، فَقَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ ". فَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَمَّا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، فَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ رَجَّعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَعَمُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَخَرَجَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ أَهْلِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ النُّعْمَانِ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فِي أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ وَذَكَرَهُمْ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَذَكَرَهُمْ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ فِي الرَّدِّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّمَا أَعْطَاهُمْ مِنْ مَالِهِ، وَإِنَّمَا نَزَلَتْ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] بَعْدَ غَنِيمَةِ بَدْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں جانے اور نہ جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ میں حاضر ہونے والوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور جو غیر حاضر تھے ان میں سے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کو حصہ دیا، وہ اپنی بیوی رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی وجہ سے مدینہ میں رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو ان کا حصہ دیا تو انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اور میرا ثواب؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا ثواب بھی۔“ اور طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب رضی اللہ عنہ یہ شام میں تھے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بات کی تو آپ ﷺ نے ان کو بھی حصہ دیا تو انھوں نے ثواب کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا ثواب بھی تجھے ملے گا۔“
اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ، یہ بھی شام سے آئے جب آپ ﷺ مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی ﷺ نے ان کو حصہ دیا اور اجر و ثواب کے بارے میں بھی فرمایا کہ ”ملے گا۔“ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف گئے، آپ ﷺ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو بھی آپ ﷺ نے مدینہ بھیج دیا تھا، اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے مگر آپ ﷺ نے ان کو واپس کر دیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا، اور خوات بن جبیر بن نعمان رضی اللہ عنہ کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہو گئے تھے، آپ ﷺ نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ رحمہما اللہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔“ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔
اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ، یہ بھی شام سے آئے جب آپ ﷺ مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی ﷺ نے ان کو حصہ دیا اور اجر و ثواب کے بارے میں بھی فرمایا کہ ”ملے گا۔“ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف گئے، آپ ﷺ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو بھی آپ ﷺ نے مدینہ بھیج دیا تھا، اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے مگر آپ ﷺ نے ان کو واپس کر دیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا، اور خوات بن جبیر بن نعمان رضی اللہ عنہ کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہو گئے تھے، آپ ﷺ نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ رحمہما اللہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔“ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔
حدیث نمبر: 17988
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: " نَزَلَتْ فِي أَهْلِ بَدْرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَأَمَّا مَا احْتُجَّ بِهِ مِنْ وَقْعَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، وَابْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ، وَقَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ، وَكَانَتْ وَقْعَتُهُمْ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَتَوَقَّفُوا فِيمَا صَنَعُوا، حَتَّى نَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: ٢١٧]، وَلَيْسَ مِمَّا خَالَفَ فِيهِ الْأَوْزَاعِيُّ بِسَبِيلٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: فذَكَرْنَا قِصَّةَ ابْنِ جَحْشٍ مِنْ رِوَايَةِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ انفال کے بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا: یہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ابن حضرمی کے واقعہ سے جو دلیل لی جاتی ہے، یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے، جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انہوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔“ اور امام اوزاعی رحمہ اللہ کو اختلاف کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا قصہ سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر ہو گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ابن حضرمی کے واقعہ سے جو دلیل لی جاتی ہے، یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے، جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انہوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔“ اور امام اوزاعی رحمہ اللہ کو اختلاف کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا قصہ سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر ہو گیا ہے۔
حدیث نمبر: 17989
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗١٠٠⦘ جَحْشٍ إِلَى نَخْلَةَ، فَقَالَ لَهُ: " كُنْ بِهَا حَتَّى تَأْتِيَنَا بِخَبَرٍ مِنْ أَخْبَارِ قُرَيْشٍ "، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِقِتَالٍ وَذَلِكَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يُعْلِمَهُ أَيْنَ يَسِيرُ، فَقَالَ: " اخْرُجْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ حَتَّى إِذَا سِرْتَ يَوْمَيْنِ فَافْتَحْ كِتَابَكَ وَانْظُرْ فِيهِ فَمَا أَمَرْتُكَ فِيهِ فَامْضِ لَهُ، وَلَا تَسْتَكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الذَّهَابِ مَعَكَ "، فَلَمَّا سَارَ يَوْمَيْنِ فَتْحَ الْكِتَابَ، فَإِذَا فِيهِ أَنِ امْضِ حَتَّى تَنْزِلَ نَخْلَةَ، فَتَأْتِيَنَا مِنْ أَخْبَارِ قُرَيْشٍ بِمَا يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ سَمْعًا وَطَاعَةً، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَهُ رَغْبَةٌ فِي الشَّهَادَةِ فَلْيَنْطَلِقْ مَعِي فَإِنِّي مَاضٍ لِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَرِهَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَرْجِعْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانِي أَنْ أَسْتَكْرِهَ مِنْكُمْ أَحَدًا. فَمَضَى مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبُحْرَانَ أَضَلَّ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ بَعِيرًا لَهُمَا كَانَا يَعْتَقِبَانِهِ، فَتَخَلَّفَا عَلَيْهِ يَطْلُبَانِهِ، وَمَضَى الْقَوْمُ حَتَّى نَزَلُوا نَخْلَةَ، فَمَرَّ بِهِمْ عَمْرُو بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ كَيْسَانَ، وَعُثْمَانُ وَالْمُغِيرَةُ ابْنَا عَبْدِ اللهِ، مَعَهُمْ تِجَارَةٌ قَدِمُوا بِهَا مِنَ الطَّائِفِ أُدُمٌ وَزَبِيبٌ، فَلَمَّا رَآهُمُ الْقَوْمُ أَشْرَفَ لَهُمْ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ قَدْ حَلَقَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ حَلِيقًا قَالُوا: عُمَّارٌ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْهُمْ بَأْسٌ، وَائْتَمَرَ الْقَوْمُ بِهِمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَجَبٍ، فَقَالُوا: لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَتَقْتُلُونَهُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَلَئِنْ تَرَكْتُمُوهُمْ لَيَدْخُلُنَّ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْحَرَمَ فَلَيَمْتَنِعُنَّ مِنْكُمْ، فَأَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَى قَتْلِهِمْ، فَرَمَى وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيُّ عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَأْسَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَكَمَ بْنَ كَيْسَانَ، وَهَرَبَ الْمُغِيرَةُ وَأَعْجَزَهُمْ، وَاسْتَاقُوا الْعِيرَ فَقَدِمُوا بِهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: " وَاللهِ مَا أَمَرْتُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ". فَأَوْقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسِيرَيْنِ وَالْعِيرَ، فَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أُسْقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَظَنُّوا أَنْ قَدْ هَلَكُوا، وَعَنَّفَهُمْ إِخْوَانُهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَتْ قُرَيْشٌ حِينَ بَلَغَهُمْ أَمْرُ هَؤُلَاءِ: قَدْ سَفَكَ مُحَمَّدٌ الدَّمَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَأَخَذَ فِيهِ الْمَالَ، وَأَسَرَ فِيهِ الرِّجَالَ، وَاسْتَحَلَّ الشَّهْرَ الْحَرَامَ. فَأَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} [البقرة: ٢١٧]، يَقُولُ: الْكُفْرُ بِاللهِ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ، فَلَمَّا نَزَلَت ذَلِكَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيرَ، وَفَدَى الْأَسِيرَيْنِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: أَتَطْمَعُ لَنَا أَنْ تَكُونَ غَزْوَةً، فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا} [البقرة: ٢١٨]، إِلَى قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ}، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَكَانُوا ثَمَانِيَةً وَأَمِيرُهُمُ التَّاسِعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کے باغ کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم وہاں رہو اور قریش کے بارے میں خبر دو۔“ آپ ﷺ نے ان کو قتال کا حکم نہیں دیا تھا اور یہ حرمت والے مہینے کا واقعہ ہے، اور آپ ﷺ نے ان کو ایک خط دیا اس سے پہلے کہ ان کو بتاتے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جاؤ اور دو دن سفر کے بعد اس کو کھولنا اور دیکھنا میں نے تم کو کیا حکم دیا ہے اور اس پر عمل کرنا اور اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا۔“ جب انہوں نے دو دن سفر کر لیا تو خط کو کھولا، اس میں لکھا تھا: ”سفر جاری رکھو حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں جاؤ اور جو قریش کے بارے میں تم کو پتہ چلے اس کی ہمیں خبر دو۔“
انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے، جو شہادت کا متلاشی ہے وہ میرے ساتھ چلے، میں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے چلوں گا، جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جا سکتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے، جب دو دریاؤں کے پاس پہنچے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ گم ہو گیا، وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان، عثمان اور مغیرہ گزرے، آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مالِ تجارت بھی تھا، وہ طائف سے چمڑا اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو سیدنا واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نگرانی کی، انہوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا، جب انہوں نے دیکھا تو کہا: ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں، تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہو جائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا، لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو سیدنا واقد بن عبداللہ تیمی رضی اللہ عنہ نے تیر مار کر قتل کر دیا اور عثمان بن عبداللہ نے حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انہوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔“ آپ ﷺ نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا، ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ محمد (ﷺ) نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے: اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے عرض کیا: کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 218] ”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ تھے۔
انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے، جو شہادت کا متلاشی ہے وہ میرے ساتھ چلے، میں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے چلوں گا، جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جا سکتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے، جب دو دریاؤں کے پاس پہنچے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ گم ہو گیا، وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان، عثمان اور مغیرہ گزرے، آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مالِ تجارت بھی تھا، وہ طائف سے چمڑا اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو سیدنا واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نگرانی کی، انہوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا، جب انہوں نے دیکھا تو کہا: ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں، تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہو جائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا، لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو سیدنا واقد بن عبداللہ تیمی رضی اللہ عنہ نے تیر مار کر قتل کر دیا اور عثمان بن عبداللہ نے حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انہوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔“ آپ ﷺ نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا، ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ محمد (ﷺ) نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے: اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے عرض کیا: کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 218] ”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 17990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ⦗١٠١⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ بِمَعْنَى هَذَا، قَالَ: " وَذَلِكَ فِي رَجَبٍ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ فِي الْغَنَائِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ، عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کو نقل فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بدر کے معرکے سے دو ماہ پہلے رجب میں پیش آیا اور اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ یہ واقعہ غنیمتوں کی تقسیم کے بارے میں نازل ہونے والی آیت سے پہلے کا ہے۔