کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذمیوں میں سے جن لوگوں سے مشرکین کے خلاف جنگ میں مدد لی جائے انہیں مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " اسْتَعَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَهُمْ، وَلَمْ يُسْهِمْ لَهُمْ ". " تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَينَا قَبْلُ هَذَا فِي كَرَاهِيَةِ الِاسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو قینقاع کے یہود سے مدد لی اور ان کو اس کا بدلہ کچھ مال عطیۃً دیا، لیکن ان کو حصہ مقرر کر کے نہیں دیا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حسن بن عمارہ منفرد ہے اور وہ متروک ہے، اور اس بارے میں ہمیں کوئی صحیح حدیث نہیں پہنچی، اور ہم اس سے پہلے مشرکین سے مدد لینے کی کراہت کے بارے میں روایات بیان کر چکے ہیں۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حسن بن عمارہ منفرد ہے اور وہ متروک ہے، اور اس بارے میں ہمیں کوئی صحیح حدیث نہیں پہنچی، اور ہم اس سے پہلے مشرکین سے مدد لینے کی کراہت کے بارے میں روایات بیان کر چکے ہیں۔
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " غَزَا بِنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ فَأَسْهَمَ لَهُمْ ". " فَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَالْحَدِيثُ الْمُنْقَطِعُ عِنْدَنَا لَا يَكُونُ حُجَّةً. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَى الْوَاقِدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ فُطَيْرٍ الْحَارِثِيِّ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ يَهُودِ الْمَدِينَةِ إِلَى خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَهُمْ كَسُهْمَانِ الْمُسْلِمِينَ ". وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ یہودی لوگوں کو ساتھ ملا کر جہاد کیا ہے اور ان کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع ہے، اس لیے حجت نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فطیہ حارثی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے دس یہودیوں کو ساتھ لے کر خیبر کی طرف گئے اور ان کے لیے مسلمانوں کی طرح حصہ بھی مقرر کیا۔ یہ بھی منقطع ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع ہے، اس لیے حجت نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فطیہ حارثی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے دس یہودیوں کو ساتھ لے کر خیبر کی طرف گئے اور ان کے لیے مسلمانوں کی طرح حصہ بھی مقرر کیا۔ یہ بھی منقطع ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔