کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اہلِ کتاب کے ساتھ برتاؤ کا بیان۔
حدیث نمبر: 17949
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ”اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر، اور نہ اس چیز کو حرام سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور نہ دین حق کو اپناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔“ [سورة التوبة: 29]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17949
حدیث نمبر: 17949
Not Found.
حافظ ثناء اللہ
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب لشکر پر امیر بناتے تھے تو اس کو تقویٰ کی نصیحت کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے اور پھر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اور اس کے راستے میں لڑائی کرو، جو اللہ کے انکاری ہوں ان سے لڑائی کرو، ان کو قتل کرو، دھوکا نہ دو، غداری نہ کرو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو۔ جب دشمن سے ملو تو ان کو تین شرائط میں سے کسی ایک کے قبول کرنے کی دعوت دیں، اگر وہ ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لیں تو قبول کرو اور اپنا ہاتھ ان سے روک لو۔ ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر قبول کریں تو تم قبول کرو اور ان سے رک جاؤ۔ پھر ان کو اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دیں اور ان کو بتائیں کہ اگر وہ اس طرح کریں گے تو ان کو وہ ملے گا جو مہاجرین کو ملے گا اور ان کی ذمہ داری وہی ہوگی جو مہاجرین کی ہے۔ اگر وہ اپنے گھروں سے مہاجرین کی طرف منتقل نہ ہونا چاہیں تو ان کو بتاؤ کہ ان کی حیثیت دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوگی، اللہ کے احکامات ان پر جاری کیے جائیں گے جو دیہاتیوں پر جاری ہوتے ہیں، ان کو مالِ فے اور مالِ غنیمت سے کچھ نہیں ملے گا، ہاں! اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد پر جائیں۔ اگر اس کا انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کریں، اگر وہ جزیہ دیں تو اپنا ہاتھ ان سے روک لیں۔ اگر اس کو بھی نہ مانیں تو اللہ سے ان کے مقابلے میں مدد طلب کریں اور ان سے قتال کریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17949
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»