کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: 0سیر (مہمات اور جنگی احکام) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: بت پرست مشرکین کے ساتھ برتاؤ کا بیان۔
حدیث نمبر: 17947
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ "} [التوبة: 5] الْآيَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ ”پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔“ [سورة التوبة: 5] (پوری) دونوں آیات۔
حدیث نمبر: 17947
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جہاد کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ لوگ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھ لیں اور جس نے کلمہ پڑھ لیا، اس نے اپنا مال اور جان ہم سے بچا لیا ہے مگر اسلام کے حقوق کی ادائیگی میں اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔“
حدیث نمبر: 17948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَرَّرِ بنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي، قُلْتُ: يَا أَبِي، بِأِيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تُنَادِي؟ قَالَ: " أَمَرَنَا أَنْ نُنَادِي أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَإِنَّ اللهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْكِرِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْكَعْبَةِ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ أَوْ بَعْدَ الْيَوْمِ مُشْرِكٌ ".
حافظ ثناء اللہ
محرز بن ابی ہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشرکین سے براءت کے اعلان کے لیے بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں اعلان کرتا رہا حتی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! آپ کس چیز کا اعلان کر رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ اعلان کریں کہ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے، اور جس کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے، پس جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3]، اور اب کوئی بیت اللہ کا طواف ننگی حالت میں نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی مشرک اس سال کے بعد طواف کرے گا“ یا کہا: ”آج کے دن کے بعد کوئی مشرک طواف نہیں کرے گا۔“