کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے بیان میں جس پر قرض ہو تو وہ قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَفَّرَ اللهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللهُ عَنْكَ خَطَايَاكَ ". فَلَمَّا جَلَسَ دَعَاهُ، فَقَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ؟ ". فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ". ⦗٤٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کر دیا جاؤں کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کے راستہ میں اس حال میں قتل ہوا کہ صبر کرنے والا ہو اور ثواب کی امید رکھے اور پیش قدمی کرنے والا ہو پیٹھ دکھانے والا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو مٹا دے گا۔“ جب آپ ﷺ بیٹھ گئے تو اس کو بلایا اور کہا: ”تو کیا کہتا ہے؟“ اور بات دہرائی اور کہا: ”مگر قرض“ اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ”جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔“
حدیث نمبر: 17826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدَّيْنَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں شہید ہونا تمام خطاؤں کو مٹا دیتا ہے مگر قرض باقی رہتا ہے۔“ (ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مومن کی جان قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔“