کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایک قرابت دار کو دوسرے قرابت دار کے بدلے پکڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي وَجَلَسْنَا سَاعَةً فَتَحَدَّثْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: " ابْنُكَ هَذَا؟ " قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: " حَقًّا؟ " قَالَ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي بِأَبِي، وَمَنْ حَلِفِ أَبِي عَلَى ذَلِكَ، ⦗٥٩٩⦘ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ " قَالَ: وَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: ٣٨] إِلَى قَوْلِهِ: {هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى} [النجم: ٥٦].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آیا، ہم نے سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”یہ تیرا بیٹا ہے؟“ میرے والد نے کہا: جی ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”سچے ہو، میں اس پر گواہ ہوں۔“ نبی ﷺ مسکرائے کہ میں اپنے باپ سے مشابہت بھی رکھتا تھا اور وہ قسم بھی اٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے جرم کے بدلے تیرے بیٹے کو، یا تیرے بیٹے کے بدلے تجھے نہیں پکڑا جائے گا۔“ پھر یہ آیت پڑھی: ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 38]۔
حدیث نمبر: 17699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ، وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهَتَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّهَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن زہدم حنظلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس آئے۔ بنو تمیم کی ایک جماعت بھی تھی۔ ہم ان کی طرف بڑھے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: «الْيَدُ الْمُعْطِيَةُ الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ» ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے، تو سب سے پہلے اپنے عیال سے اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بہنوں، اپنے بھائیوں، پھر اسی طرح ان سے ادنیٰ کو دو۔“ ایک انصاری کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے جاہلیت میں ایک شخص کو قتل کیا تھا“، تو آپ ﷺ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: «لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى» ”کسی کے کیے کی سزا انھیں نہیں دی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 17700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ يُؤْخَذُ بِذَنْبِ غَيْرِهِ، حَتَّى جَاءَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: ٣٨] قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي سَمِعْتُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: ٣٨] أَنْ لَا يُؤْخَذَ أَحَدٌ بِذَنْبِ غَيْرِهِ؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَى الْعِبَادَ عَلَى أَعْمَالِ أَنْفُسِهِمْ، وَكَذَلِكَ أَمْوَالُهُمْ لَا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ فِي مَالٍ إِلَّا حَيْثُ خَصَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ جِنَايَةَ الْخَطَأِ مِنَ الْحُرِّ مِنَ الْآدَمِيِّينَ عَلَى عَاقِلَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن اوس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے آدمی دوسرے کے کردہ گناہ میں بھی پکڑا جاتا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے آنے کے بعد یہ حکم ہوا: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ * أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 37-38]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ کسی کو کسی کے جرم کے بدلے نہیں پکڑا جائے گا؛ کیونکہ ہر بندے کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح مال میں ہے کہ ہر ایک اپنا ضامن ہے۔ ہاں قتلِ خطا میں نبی ﷺ نے ”دیت آزاد آدمی کے عصبہ پر رکھی ہے“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ کسی کو کسی کے جرم کے بدلے نہیں پکڑا جائے گا؛ کیونکہ ہر بندے کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح مال میں ہے کہ ہر ایک اپنا ضامن ہے۔ ہاں قتلِ خطا میں نبی ﷺ نے ”دیت آزاد آدمی کے عصبہ پر رکھی ہے“۔