کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک صرف صریح تہمت لگانے پر ہی حد واجب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 17141
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٤٣٩⦘ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، قَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا أَلْوَانُهَا؟ " قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مِمَّ ذَاكَ؟ " قَالَ: ذَاكَ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَعَلَّ ابْنَكَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " لَفْظُ حَدِيثِ الْأَسْفَاطِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس بنو فزارہ سے ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ میری بیوی نے ایک سیاہ بچے کو جنم دیا ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کا رنگ کیسا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ان میں کوئی زرد رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کہاں سے آیا ہے؟“ اس نے کہا: اسے کسی رگ نے کھینچا ہو گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہارے اس بیٹے کو بھی کسی رگ نے کھینچنا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 17142
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا أَلْوَانُهَا؟ " قَالَ: حُمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ " قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ؟ " قَالَ: لَعَلَّهُ عِرْقٌ نَزَعَهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَسَائِرُ طُرُقِهِ قَدْ مضتْ فِي كِتَابِ اللِّعَانِ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“
حدیث نمبر: 17143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللهُ عَنِّي لَعْنَ قُرَيْشٍ وَشَتْمَهُمْ، يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ نے قریش کی لعنتوں کو کس طرح مجھ سے دور کر دیا ہے؟ وہ مجھے «مُذَمَّم» کہتے ہیں حالانکہ میں تو محمد ﷺ ہوں۔“
حدیث نمبر: 17144
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " لَا جَلْدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: أَنْ يَقْذِفَ مُحْصَنَةً، أَوْ يَنْفِي رَجُلًا مِنْ أَبِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوڑے صرف دو کاموں میں ہیں، یا تو کسی پاک دامن پر تہمت لگانے پر یا کوئی اپنے والد کا انکار کر دے۔
حدیث نمبر: 17145
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: " مَا كُنَّا نَرَى الْجَلْدَ إِلَّا فِي الْقَذْفِ الْبَيِّنِ وَالنَّفْيِ الْبَيِّنِ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم کوڑے صرف صریح تہمت یا صریح نفیِ والد کی صورت میں لگایا کرتے تھے۔