کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رجم کیے جانے والے مرد اور عورت کے لیے گڑھا کھودنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَوَاللهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ، وَلَا أَوْثَقْنَاهُ، وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ، فَاشْتَكَى فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ " لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ، كَذَا رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا تو ہم اسے بقیع کی طرف لے کر گئے، تو واللہ! ہم نے نہ اسے گاڑا اور نہ باندھا، وہ کھڑا رہا۔ ہم نے اسے پتھر کنکریاں ماریں تو وہ تکلیف کی وجہ سے بھاگا تو ہم نے حرہ کے مقام پر پکڑ لیا اور اونٹ کی ایک ہڈی اسے ماری، جس سے وہ مر گیا۔
حدیث نمبر: 16965
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ فَقَالَ: ⦗٣٨٥⦘ يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي زَنَيْتُ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ " فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ " ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُونَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، هَلْ تَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا، أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا؟ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، وَلَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، فَأَتَاهُ مِنَ الْغَدِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي، فَإِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ كَمَا سَأَلَهُمْ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، وَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةٌ فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! مجھ سے زنا ہو گیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مجھے پاک کیا جائے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس لوٹ جاؤ۔“ دوسرے دن وہ پھر آ گئے تو نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا: ”لوٹ جاؤ۔“ اور آپ ﷺ نے ان کی قوم کی طرف ایک آدمی بھیجا کہ: ”جاؤ پوچھ کر آؤ کہ ماعز کو کیا ہوا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ کیا اس کی عقل میں کچھ (خرابی) ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ہم نے تو ان میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی۔“ وہ تیسرے دن پھر آ گئے تو نبی کریم ﷺ نے پھر ان کی قوم سے پوچھا تو وہی جواب ملا، تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا، پھر ان کے لیے گڑھا کھودا گیا اور سینے تک سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو اس میں گاڑا گیا اور پھر رجم کیا گیا۔
حدیث نمبر: 16966
وَعَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي فَإِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعِي " فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَيْضًا اعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ ابْنَ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيَّ، فَوَاللهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي " فَلَمَّا وَلَدَتْهُ جَاءَتْهُ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ " فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ، هَذَا هُوَ يَأْكُلُ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْعِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، يَعْنِي بِحَجَرٍ، فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّخَ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ: " مَهْلًا يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ " فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ إِثْبَاتُ الْحَفْرِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ جَمِيعًا وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ اللَّجْلَاجِ فِي قِصَّةِ الشَّابِّ الْمُحْصِنِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْجَمُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي قِصَّةِ الْجُهَنِيَّةِ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، وَفِي رِوَايَةٍ فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أُمِرَ بِهَا فَرُجِمَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے، میں نے زنا کر لیا ہے“، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”واپس چلی جا۔“ تو وہ کہنے لگی کہ جس طرح آپ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج رہے تھے، مجھے بھی اسی طرح بھیج رہے ہیں، واللہ! میں حاملہ ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس چلی جا یہاں تک کہ تو اسے جن دے۔“ جب اس نے بچہ جن دیا تو وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی اور آپ ﷺ سے پھر رجم کا مطالبہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جا، دودھ پلا یہاں تک کہ یہ کھانا کھانے لگے۔“ کچھ عرصے بعد پھر وہ آ گئیں تو بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، تو نبی ﷺ نے وہ بچہ ایک شخص کے حوالے کیا اور اس عورت کے لیے حکم دیا گیا کہ گڑھا کھودا جائے اور سینے تک عورت کو اس میں گاڑا گیا اور پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اسے رجم کر دیں، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر مارا جس کے خون کے چھینٹے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اوپر پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”چپ ہو جاؤ خالد! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ظالمانہ ٹیکس لگانے والے پر کی جائے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے۔“ پھر حکم دیا اور اس کے اوپر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کی گئیں۔
حدیث نمبر: 16967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ امْرَأَةً، فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ " ⦗٣٨٦⦘ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُدِّثْتُ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمَانَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ زَادَ: ثُمَّ رَمَاهَا بِحَصَاةٍ مِثْلَ الْحِمِّصَةِ، ثُمَّ قَالَ: " ارْمُوا وَاتَّقُوا الْوَجْهَ " فَلَمَّا طُفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي التَّوْبَةِ نَحْوَ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو نبی ﷺ نے رجم کیا تو اس کے سینے تک گڑھا کھودا گیا، ابوداؤد میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اسے کنکریوں سے مارا گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”چہرے سے بچنا۔“ جب وہ مر گئی تو اسے نکالا، اس پر نماز بھی پڑھی اور پھر اس کی توبہ کے بارے میں گزشتہ حدیث کے جو آخری الفاظ ہیں وہ کہے۔