کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: رجم کیے گئے شخص کو غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور پھر اسے دفن کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16951
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، " أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَائْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے ولی سے فرمایا: ”اس کے ساتھ احسان کرنا، جب یہ وضع حمل کر دے تو پھر اسے لے کر آنا۔“ اس نے ویسا ہی کیا، پھر جب وہ دوبارہ آئی تو آپ ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز بھی پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یا رسول اللہ ﷺ! اس نے تو زنا کیا تھا اور آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان کو کافی ہو جائے، کیا تو نے اس سے بھی افضل کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے لیے پیش کر دیا۔“ [صحیح]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16951
حدیث نمبر: 16952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْقَبَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16952
حدیث نمبر: 16953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ وَرَجْمِهَا وَسَبِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِيَّاهَا، قَالَ: فَسَمِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ: " مَهْلًا يَا خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ " فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ قصہ غامدیہ اور اس کے رجم کے متعلق فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے گالی دی، نبی ﷺ نے ان کی گالی سن لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! رک جاؤ، اسے گالی نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ (ناجائز) ٹیکس لینے والے کو بھی وہ کفایت کر جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے غسل کا حکم دیا، اس پر نماز پڑھی اور اسے دفن کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16953
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٣٨٠⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ اللَّجْلَاجَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا يَعْمَلُ فِي السُّوقِ، فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا، فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: فَقَالَ: " مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟ " قَالَ: فَسَكَتَتْ، قَالَ: فَقَالَ شَابٌّ حِذَاءَهَا: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟ " قَالَ: فَسَكَتَتْ، قَالَ: فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا حَدِيثَةُ السِّنِّ، حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِخِزْيَةٍ، وَلَيْسَتْ مُكَلِّمَتَكَ، فَأَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ كَأَنَّهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا، أَوْ نَحْوَ ذَا، فَقَالَ: " أَحْصَنْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى مَجَالِسِنَا، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ شَيْخٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِيبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا إِنَّ هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " قَالَ: فَانْصَرَفْنَا مَعَ الشَّيْخِ فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ، فَأَتَيْنَا إِلَيْهِ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ أَمْ لَا وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَلَمَّا طُفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ
لجلاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے ہوئے گزری تو لوگ اس پر جوش میں آ گئے، میں بھی آ گیا۔ میں اسے نبی ﷺ کے پاس لے گیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”یہ جو بچہ تیرے پاس ہے اس کا والد کون ہے؟“ وہ خاموش رہی تو ایک نوجوان وہیں سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میں اس کا باپ ہوں یا رسول اللہ!۔ پھر اس عورت سے وہی پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے؟ تو وہ نوجوان کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ یہ نو عمر ہے، یہ آپ سے بات نہیں کرے گی، تو آپ ﷺ نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، گویا آپ ﷺ اس کے بارے میں ان سے پوچھ رہے ہوں تو لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اسے بڑا بہترین پایا ہے، تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دیا تو ہم نے گڑھا کھود کر اسے رجم کر دیا اور اپنی مجالس میں پھر آ گئے تو ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس رجم کیے ہوئے کے بارے میں پوچھنے لگا تو ہم اسے نبی ﷺ کے پاس لے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اس خبیث کے بارے میں پوچھ رہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رک جاؤ، وہ اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ خوشبو دار ہے۔“ کہتے ہیں: ہم اس شیخ کے ساتھ واپس آئے تو پتہ چلا کہ یہ اس کا باپ تھا، تو ہم نے اس کے غسل، کفن، دفن میں اس کی مدد کی۔ کہتے ہیں: نماز کا مجھے یاد نہیں کہ پڑھی تھی کہ نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16954
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16955
وَأَمَّا مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِكَ جُنُونٌ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " أَحْصَنْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَ الْحَدِيثِ، وَسَاقَهُ غَيْرُهُ عَنْ إِسْحَاقَ، وَقَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ، وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَصْحَابُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْهُ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ فِيهِ: فَصَلَّى عَلَيْهِ وَهُوَ خَطَأٌ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ وَابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: فَصَلَّى عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا، یہاں تک کہ جب اس نے چار مرتبہ اپنے نفس پر گواہی دی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مجنون ہو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کیا: ہاں، تو آپ ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن اسے پکڑ کر پھر رجم کیا گیا اور وہ مر گیا تو نبی ﷺ نے اس کے لیے اچھے کلمات کہے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16955
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16956
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ⦗٣٨١⦘ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَرَمَيْنَاهُ بِالْخَزَفِ وَالْجَنْدَلِ وَالْعِظَامِ، وَمَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَا أَوْثَقْنَاهُ فَمَضَى يَشْتَدُّ إِلَى الْحَرَّةِ، وَاتَّبَعْنَاهُ فَقَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ حَتَّى سَكَنَ، فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا سَبَّهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ فَهَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَسْتَغْفِرْ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ فِي الْحَالِ أَمَرَهُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُ بَعْدَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ، أَنَّهُ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ، وَقِصَّةُ الْغَامِدِيَّةِ بَعْدَ قِصَّةِ مَاعِزٍ، فَفِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ لِمَ تَرُدَّنِي؟ فَلَعَلَّكَ إِنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا، فَوَاللهِ إِنِّي لَحُبْلَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے آ کر تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو نبی ﷺ نے ان سے سوال کر کے رجم کر دیا۔ نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، نہ باندھا۔ وہ بھاگے ہم نے حرہ کی طرف جا کر انہیں پکڑ لیا اور وہاں پتھر مارے تو وہ مر گئے۔ نبی ﷺ نے نہ ان کے لیے استغفار کی اور نہ ہی برا کہا۔
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں غامدیہ عورت کا قصہ ہے، اس پر نماز بھی پڑھی گئی، آپ ﷺ کے حکم سے اور دفن بھی کی گئی اور غامدیہ کا واقعہ ماعز رضی اللہ عنہ کے بعد کا ہے؛ کیونکہ غامدیہ نے کہا تھا: ”کیا آپ مجھے بھی ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16956
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»