کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اگر مرتدین قتال کے دوران کسی مسلمان کو قتل کر دیں اور وہ صاحبِ شوکت (طاقتور) ہوں، پھر وہ توبہ کر لیں تو ان سے خون کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16760
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ قَتَلَ طُلَيْحَةُ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَثَابِتَ بْنَ أَقْرَمَ، ثُمَّ أَسْلَمَ فَلَمْ يَضْمَنْ عَقْلًا وَلَا قَوَدًا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلیحہ نے سیدنا عکاشہ بن محصن اور سیدنا ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تھا، پھر وہ اسلام لے آیا تو اس پر نہ دیت کی ضمانت ڈالی گئی اور نہ قصاص کی۔“
حدیث نمبر: 16760
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا ⦗٣١٨⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الْإِسْلَامِ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي بَعْثِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَقِتَالِهِ قَالَ: وَكَانَ طُلَيْحَةُ شَدِيدَ الْبَأْسِ فِي الْقِتَالِ، فَقَتَلَ طُلَيْحَةُ يَوْمَئِذٍ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ، فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَيْحَةَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَرَكِبَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ آمِنًّا، حَتَّى مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى عُمْرَتَهُ. وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ أَسْقَطَ عَنْهُ الْقِصَاصَ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اہل عرب مرتد ہو گئے، تو انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ان سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا اور طلیحہ سے بڑی شدید جنگ ہوئی اور اس نے سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابنِ اقرم رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ بعد میں یہ مسلمان ہو گیا اور مدینہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر مکہ جا کر عمرہ کیا لیکن نہ ان سے قصاص لیا گیا اور نہ دیت۔