کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بازو اور پنڈلی ٹوٹنے کی دیت کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فِي الذِّرَاعِ إِذَا كُسِرَ مِائَتَا دِرْهَمٍ ⦗١٧٤⦘ وَرُوِيَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كُسِرَتِ السَّاقُ أَوِ الذِّرَاعُ فَفِيهَا عِشْرُونَ دِينَارًا أَوْ حِقَّتَانِ، يَعْنِي إِذَا بَرِئَتْ عَلَى غَيْرِ عَثْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بازو جب توڑا جائے تو اس میں ٢٠٠ درہم ہیں اور ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتا ہے کہ جب پنڈلی یا بازو توڑا جائے تو اس میں ٢٠ دینار یا دو حقے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16334
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غُنَيَّةََ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْمُحْتَفِزِ الْأَعْرَابِيِّ عَنِ الْكَاسِرِ، أَنَّهُ كُسِرَ سَاقُ رَجُلٍ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِثَمَانٍ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: اخْتِلَافُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَضَى فِيهِ بحُكُومَةٍ بَلَغَتْ هَذَا الْمِقْدَارَ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن محتفز دیہاتی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی پنڈلی توڑ دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں آٹھ اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس میں روایات مختلف ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ اپنی رائے سے کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16335
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَبِيعَةَ، وَابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ كِتَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكِتَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَيَقُولُونَ: لَمْ يَجْعَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَسْرِ الْيَدِ فِي الْخَطَأِ إِلَّا جُعْلَ الْجَابِرِ، وَإِنْ هِيَ اسْتَوَتْ وَفِيهَا عَثْمٌ أَوْ شَيْءٌ أُقِيمَتْ قِيَمُهُ، ثُمَّ غَرِمَهَا الَّذِي كَسَرَهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ، ربیعہ رحمہ اللہ اور ابن ابی فروہ رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی کتاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نبی ﷺ نے غلطی سے ہاتھ کے ٹوٹنے میں کوئی دیت مقرر نہیں کی۔“ اگر وہ سیدھا ہی ہو تو اس میں کچھ فائدہ پہنچانا ہے یا کچھ قیمت مقرر کر کے اس کی چٹی توڑنے والے پر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16336
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ يَقُولُونَ: كُلُّ عَظْمٍ كُسِرَ خَطَأٌ ثُمَّ جُبِرَ مُسْتَوِيًا غَيْرَ مَنْقُوصٍ وَلَا مَعِيبٍ، فَلَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلَّا عَطَاءُ الْمُدَاوِي وَشِبْهُ ذَلِكَ، فَإِنْ جُبِرَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ وَبِهِ عَيْبٌ أَوْ نَقْصٌ فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ شَيْنُ ذَلِكَ وَعَيْبُهُ، يُقَيِّمُ ذَلِكَ أَهْلُ الْبَصَرِ وَالْعَقْلِ، ثُمَّ يُعْقَلُ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَوْنَ، وَكَذَلِكَ قَالُوا: فِي الشَّجَّةِ الْمَلْطَاءِ وَفِي كُلِّ جُرْحٍ فِي الْجَسَدِ إِذَا بَرَأَ وَلَيْسَ بِهِ عَيْبٌ لَا يَرَوْنَ فِي ذَلِكَ إِلَّا عَطَاءَ الْمُدَاوِي وَشِبْهَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے وقت کے کبار فقہاء کرام سے سنا کہ ہر وہ ہڈی جو غلطی سے ٹوٹ جائے تو اسے جوڑا جائے، اگر وہ سیدھی ہوجائے اور کوئی عیب نہ ہو تو مجرم پر صرف علاج کا خرچہ ہے۔ اگر جوڑنے کے بعد اس میں کوئی عیب یا نقص ہوجائے تو اس عیب کے مطابق اس پر دیت ہے، جو اہل عقل و بصیرت مقرر کریں گے۔ ایسے ہی ان کا اس زخم میں جو گہرا ہو اور جسم کے تمام زخموں کے بارے میں ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوجائیں اور کوئی عیب نہ ہو تو صرف علاج کے اخراجات اس کے ذمہ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16337
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»