السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في كسر الذراع والساق باب: بازو اور پنڈلی ٹوٹنے کی دیت کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16336
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَبِيعَةَ، وَابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ كِتَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكِتَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَيَقُولُونَ: لَمْ يَجْعَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَسْرِ الْيَدِ فِي الْخَطَأِ إِلَّا جُعْلَ الْجَابِرِ، وَإِنْ هِيَ اسْتَوَتْ وَفِيهَا عَثْمٌ أَوْ شَيْءٌ أُقِيمَتْ قِيَمُهُ، ثُمَّ غَرِمَهَا الَّذِي كَسَرَهَا.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ، ربیعہ رحمہ اللہ اور ابن ابی فروہ رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی کتاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نبی ﷺ نے غلطی سے ہاتھ کے ٹوٹنے میں کوئی دیت مقرر نہیں کی۔“ اگر وہ سیدھا ہی ہو تو اس میں کچھ فائدہ پہنچانا ہے یا کچھ قیمت مقرر کر کے اس کی چٹی توڑنے والے پر ہے۔