کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دونوں بھنووں، داڑھی اور سر کے بالوں کے نقصان کی دیت کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16329
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: قَضَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الْحَاجِبِ إِذَا أُصِيبَ حَتَّى يَذْهَبَ شَعْرُهُ بِمُوضِحَتَيْنِ عَشْرٍ مِنَ الْإِبِلِ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ: فِيهِمَا الِاجْتِهَادُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُحْتَمَلُ أَنَّهُ قَضَى فِي الْحَاجِبَيْنِ إِذَا أُصِيبَا بِإِيضَاحٍ بِأَرْشِ مُوضِحَتَيْنِ، أَوْ بِحُكُومَةٍ بَلَغَتْ هَذَا الْمِقْدَارَ، مَعَ أَنَّ الْحَدِيثَ مُنْقَطِعٌ لَا حُجَّةَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جبڑوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ جب ان کی ہڈی زخم سے واضح ہو جائے، ان میں دس اونٹ ہیں۔
ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں اجتہاد ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ فیصلہ اس وقت کا ہے جب زخم اتنا گہرا ہو کہ ہڈی ظاہر ہو جائے، لیکن یہ حدیث منقطع ہے۔
ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں اجتہاد ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ فیصلہ اس وقت کا ہے جب زخم اتنا گہرا ہو کہ ہڈی ظاہر ہو جائے، لیکن یہ حدیث منقطع ہے۔
حدیث نمبر: 16330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: فِي الشَّعْرِ إِذَا لَمْ يَنْبُتِ الدِّيَةُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَرُوِّينَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْحَاجِبِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: فِي الشَّعْرِ يُجْنَى عَلَيْهِ فَلَا يَنْبُتُ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا: فِيهِ الدِّيَةُ، قَالَ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ مَا رُوِيَ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بال جب تک اگ نہ آئے، اس میں دیت ہے۔ یہ منقطع ہے اور زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبڑے میں ثلث دیت ہے اور زید اور علی رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس میں دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16331
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، عَنِ الْحَاجِبِ يُشَانُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ فِيهِ، بِشَيْءٍ ⦗١٧٣⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيهِ حُكُومَةٌ بِقَدْرِ الشَّيْنِ وَالْأَلَمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے جبڑے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس میں کچھ نہیں سنا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں تکلیف اور زخم کے اعتبار سے فیصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 16332
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: حَلْقُ الرَّأْسِ لَهُ نَذْرٌ؟ فَقَالَ: لَمْ أَعْلَمْ قَالَ الرَّبِيعُ: النَّذْرُ وَالْقَدْرُ وَاحِدٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيهِ حُكُومَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ سر کے مونڈنے میں کچھ ہے؟ کہا: مجھے نہیں معلوم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں قاضی کا فیصلہ ہے۔