کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بے نور آنکھ اور شل (بیکار) ہاتھ کی دیت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16327
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ، وَالسِّنِّ السَّوْدَاءِ، وَالْيَدِ الشَّلَّاءِ، ثُلُثُ دِيَتِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنکھ پھوٹ جائے یا ہاتھ جو شل ہو جائے اور دانت جو سیاہ ہو جائے، اس میں اس کی دیت سے «ثُلُث» ”ایک تہائی“ ہے۔
حدیث نمبر: 16328
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَضَى فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا طُفِئَتْ، ⦗١٧٢⦘ أَوْ قَالَ: بُخِقَتْ بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ، إِنَّمَا فِيهَا الِاجْتِهَادُ، لَا شَيْءَ مُوَقَّتٌ وَقَدْ يَحْتَمِلُ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَكُونَ اجْتَهَدَ فِيهَا، فَرَأَى الِاجْتِهَادَ فِيهَا قَدْرَ خُمُسِهَا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَيَحْتَمِلُ قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا احْتَمَلَ قَوْلُ زَيْدٍ وَرُوِّينَا عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ حُكْمٌ، وَفِي الْيَدِ الشَّلَّاءِ حُكْمٌ، وَفِي لِسَانِ الْأَخْرَسِ حُكْمٌ وَعَنِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ، وَالْيَدِ الشَّلَّاءِ، وَلِسَانِ الْأَخْرَسِ، حُكُومَةٌ عَدْلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس آنکھ کے بارے میں جو پھوڑ دی گئی تھی، سو دینار دیت کا فیصلہ فرمایا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اجتہادی معاملہ ہے، کوئی مقرر نہیں اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے آنکھ کی دیت کے خمس کا اجتہاد کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں بھی سیدنا زید رضی اللہ عنہ والے قول کا احتمال ہے اور مسروق رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ پھوٹی ہوئی آنکھ، شل ہاتھ اور گونگی زبان میں یہی حکم ہے۔
اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آنکھ پھوٹ جائے، شل ہاتھ اور گونگی زبان میں حاکم عدل سے فیصلہ کرے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اجتہادی معاملہ ہے، کوئی مقرر نہیں اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے آنکھ کی دیت کے خمس کا اجتہاد کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں بھی سیدنا زید رضی اللہ عنہ والے قول کا احتمال ہے اور مسروق رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ پھوٹی ہوئی آنکھ، شل ہاتھ اور گونگی زبان میں یہی حکم ہے۔
اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آنکھ پھوٹ جائے، شل ہاتھ اور گونگی زبان میں حاکم عدل سے فیصلہ کرے۔