أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي كَتَبَهُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ، فَكَتَبَ فِيهِ: " وَفِي الْأُذُنِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس خط میں جو نبی ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھا تھا، پڑھا کہ: ”ایک کان کی دیت 50 اونٹ ہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ: مَضَتِ السُّنَّةُ أَشْيَاءَ مِنَ الْإِنْسَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَفِي الْأُذُنَيْنِ الدِّيَةُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کے عضوات میں سنت واضح ہو گئی، پھر انہوں نے ایک لمبی حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی تھا کہ ”کانوں میں بھی دیت ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِي الْأُذُنِ بِنِصْفِ الدِّيَةِ قَالَ مَعْمَرٌ: وَالنَّاسُ عَلَيْهِ، قَالَ: وَقَضَى فِيهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِخَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس اور عکرمہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کان کے بارے میں نصف دیت کا فیصلہ فرمایا، اور معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے 15 اونٹوں کا فیصلہ فرمایا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: وَفِي الْأُذُنِ النِّصْفُ وَرَوَى الشَّعْبِيُّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْأُذُنِ إِذَا اسْتُؤْصِلَتْ نِصْفُ الدِّيَةِ أَخْمَاسًا، فَمَا نَقَصَ مِنْهَا فَبِحِسَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کان کے بارے میں قتل کی نصف دیت کا فیصلہ فرمایا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کان جب جڑ سے کاٹ دیا جائے تو اس میں نصف دیت ہے اور اس نصف دیت میں بھی اونٹوں کی پانچ اقسام ہوں گی، اور جو اس سے کم ہو تو وہ اسی حساب سے ہو گا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کان جب جڑ سے کاٹ دیا جائے تو اس میں نصف دیت ہے اور اس نصف دیت میں بھی اونٹوں کی پانچ اقسام ہوں گی، اور جو اس سے کم ہو تو وہ اسی حساب سے ہو گا۔