کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شجاج (سر اور چہرے کے زخموں) کی تفسیر اور ان کے درجات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَاسَرْجَسِيُّ فِيمَا قَرَأْتُهُ مِنْ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ التُّجِيبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ أَخِي حَرْمَلَةَ، ثنا عَمِّي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّ أَوَّلَ الشِّجَاجِ الْحَارِصَةُ، وَهِيَ الَّتِي تَحْرِصُ الْجِلْدَ حَتَّى تَشُقَّهُ قَلِيلًا، وَمِنْهُ قِيلَ: حَرَصَ الْقَصَّارُ الثَّوْبَ إِذَا شَقَّهُ، ثُمَّ الْبَاضِعَةُ، وَهِيَ الَّتِي تَشُقُّ اللَّحْمَ وَتَبْضَعُهُ بَعْدَ الْجِلْدِ، ثُمَّ الْمُتَلَاحِمَةُ، وَهِيَ الَّتِي أَخَذَتْ فِي اللَّحْمِ وَلَمْ تَبْلُغِ السِّمْحَاقَ، وَالسِّمْحَاقُ جِلْدَةٌ رَقِيقَةٌ بَيْنَ اللَّحْمِ وَالْعَظْمِ، وَكُلُّ قِشْرَةٍ رَقِيقَةٍ فَهِيَ سِمْحَاقٌ، فَإِذَا بَلَغَتِ الشَّجَّةُ تِلْكَ الْقِشْرَةَ الرَّقِيقَةَ حَتَّى لَا يَبْقَى بَيْنَ اللَّحْمِ وَالْعَظْمِ غَيْرُهَا فَتِلْكَ السِّمْحَاقُ، وَهِيَ الْمِلْطَاةُ، ثُمَّ الْمُوَضِحَةِ وَهِيَ الَّتِي تَكَشَّفَ عَنْهَا ذَلِكَ الْقِشْرُ، وَتُشَقُّ حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ الْعَظْمِ، فَتِلْكَ الْمُوضِحَةِ، وَالْهَاشِمَةُ الَّتِي تَهْشِمُ الْعَظْمَ، وَالْمُنَقِّلَةُ الَّتِي يُنْقَلُ مِنْهَا فِرَاشُ الْعَظْمِ، وَالْآمَّةُ، وَهِيَ الْمَأْمُومَةُ، وَهِيَ الَّتِي تَبْلُغُ أُمَّ الرَّأْسِ الدِّمَاغَ، وَالْجَائِفَةُ وَهِيَ الَّتِي تَخْرِقُ حَتَّى تَصِلَ إِلَى السِّفَاقِ، وَمَا كَانَ دُونَ الْمُوضِحَةِ فَهُوَ خُدُوشٌ فِيهِ الصُّلْحُ، وَالدَّامِيَةُ هِيَ الَّتِي تَدْمَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسِيلَ مِنْهَا دَمٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلا زخم «الْحَارِصَةُ» ”حارصہ“ ہوتا ہے جس میں کھال تھوڑی سی پھٹتی ہے، اسی سے ہے کہ «حَرَصَ الْقَصَّارُ الثَّوْبَ» ”قصار نے کپڑا پھاڑا“، اس کے بعد زخم «الْبَاضِعَةُ» ”باضعہ“ ہے، اس میں گوشت پھٹ جاتا ہے اور جلد کے بعد والا حصہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ پھر «الْمُتَلَاحِمَةُ» ”متلاحمہ“ ہے، یہ وہ زخم ہے جو گوشت کو کاٹ دیتا ہے لیکن زیادہ گہرا نہیں ہوتا، اس کے بعد «السِّمْحَاقُ» ”سمحاق“ ہے، سمحاق یہ ہڈی اور گوشت کے درمیان باریک سا پردہ ہوتا ہے اور یہ ایک جھلی کی مانند ہوتا ہے، جب زخم اس جھلی تک پہنچے لیکن ہڈی ظاہر نہ ہو تو یہ سمحاق ہوتا ہے اور «الْمِلْطَاةُ» ”ملطاۃ“ بھی اسی زخم کو کہتے ہیں، اور «الْمُوضِحَةُ» ”موضحہ“ اس زخم کو کہتے ہیں جو اس جھلی کو بھی پھاڑ کر ہڈی کو ظاہر کر دے، اور «الْهَاشِمَةُ» ”ہاشمہ“ کہ جس میں ہڈی ٹوٹ جائے، اور «الْمُنَقِّلَةُ» ”منقلہ“ وہ زخم ہے جس میں ہڈی کے ذرات شامل ہوں، اور «الْمَأْمُومَةُ» ”مأمومہ“ وہ زخم ہے جو دماغ تک پہنچے، اور «الْجَائِفَةُ» ”جائفہ“ جو پیٹ پھاڑ دے اور زخم آنتوں تک پہنچے، اور جو «الْمُوضِحَةُ» ”موضحہ“ کے علاوہ ہیں وہ «خُدُوشٌ» ”خدوش“ ہیں، ان میں صلح ہے، اور «الدَّامِيَةُ» ”دامیہ“ ایسا زخم کہ خراش آ جائے یا چوٹ لگے لیکن خون نہ بہے۔