أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ مِنَ السُّنَّةِ، أَنْ تُنَجَّمَ، الدِّيَةُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ دیت کی تین سال کی اقساط مقرر کر لی جائیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: تَغْلِيظُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: مِائَةٌ مِنَ الْأَصْنَافِ كُلِّهَا، وَيُؤْخَذُ فِي مُضِيِّ كُلِّ سَنَةٍ ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلِفَةً وَثُلُثٌ، وَعَشْرُ جِذَاعٍ، وَعَشْرُ حِقَاقٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالتَّغْلِيظُ كَمَا قَالَ عَطَاءٌ، يُؤْخَذُ فِي مُضِيِّ كُلِّ سَنَةٍ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَثُلُثٌ، وَعَشْرُ حِقَاقٍ، وَعَشْرُ جِذَاعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے اونٹوں کی دیتِ مغلظہ کے بارے میں کہا تو انہوں نے فرمایا: ہر جنس سے 100 اونٹ، اور ہر سال گزرنے پر 13 اور ایک تہائی حاملہ اونٹنیاں اور 10 حقے اور 10 جذعے لیے جائیں گے، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح فرمایا ہے۔