کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شبہ عمد کی صورت میں دیت کا عاقلہ (قاتل کے خاندان یا قبیلے) پر واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16130
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ بَطْنَهَا، فَقَتَلَتْهَا وَأَلْقَتْ جَنِينًا، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْأُخْرَى، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ نَعْقِلُ مَنْ لَا يَأْكُلُ وَلَا يَشْرَبُ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا جو اس کے پیٹ پر لگا، وہ مر گئی اور اس کا بچہ بھی ساقط ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اس عورت کی دیت کا حکم دیا اور بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی کا حکم دیا تو ایک کہنے والا کہنے لگا: جو نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، جو نہ بولا نہ چیخا، اس کے بدلے دیت کیسے دیں؟ یہ تو عجیب بات ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خیال میں نبی ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: ”یہ کاہنوں کا بھائی ہے۔“