کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نابالغ بچے کے جان بوجھ کر (عمدًا) کیے گئے فعل (جرم) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْدُ الصَّبِيِّ وَخَطَؤُهُ سَوَاءٌ، فِيهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَاجْلِدُوهَا الْحَدَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطاءً برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے نکاح کرے تو اسے حد کے کوڑے مارو۔
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَابُورَ الدَّقِيقِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَمْدُ الْمَجْنُونِ وَالصَّبِيِّ خَطَأٌ.
حافظ ثناء اللہ
حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بچے کا عمداً اور مجنوں کا عمداً بھی خطا ہے۔