السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما روي في عمد الصبي باب: نابالغ بچے کے جان بوجھ کر (عمدًا) کیے گئے فعل (جرم) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْدُ الصَّبِيِّ وَخَطَؤُهُ سَوَاءٌ، فِيهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَاجْلِدُوهَا الْحَدَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.حافظ ثناء اللہ
حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطاءً برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے زنا کروائے تو اسے حداً کوڑے مارو۔
یہ منقطع ہے اور اس کی سند میں جابر جعفی ہے اور یہ متروک ہے۔