❮
❯
حدیث نمبر: 16081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْدُ الصَّبِيِّ وَخَطَؤُهُ سَوَاءٌ، فِيهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَاجْلِدُوهَا الْحَدَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ

حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطاءً برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے نکاح کرے تو اسے حد کے کوڑے مارو۔
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16081
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»