حدیث نمبر: 16063
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أًبُو دَاوُدُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُرَيْحٍ الْكَعْبِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: بَيْنَ أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ، وَبَيْنَ أَنْ يَقْتُلُوا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خزاعہ کے نوجوانو! تم نے ہذیل کا یہ جو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کر رہا ہوں۔ جس نے میری اس بات کے بعد اگر کوئی قتل کیا تو اس کے اہل دو معاملوں میں سے ایک کے اختیار کے حامل ہوں گے، چاہے دیت لے لیں یا پھر قتل کر دیں۔“
حدیث نمبر: 16064
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ لَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا، حَتَّى قَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ: كَتَبَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا، فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ فِيهِ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَعْرَابِ لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سعید فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ دیت سے بیوی کو کچھ نہ ملے گا، یہاں تک کہ سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ ”میں اشیم ضابی کی عورت کو اس کے خاوند کی دیت سے حصہ دوں“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجوع کر لیا۔
احمد بن صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اعرابیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا۔
احمد بن صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اعرابیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 16065
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا شَيْبَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ شَيْبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ، هُوَ ابْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ، فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ " قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لَا يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا، وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان وراثت ہو گی اور جو بچے وہ عصبہ کے لیے ہے۔“ اور فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”عورت کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم کر دی جائے اور ان عصبہ کو بھی دیا جائے جن کا حصہ مقرر نہیں ہے۔ اگر وہ قتل کی گئی ہے تو اس کی دیت ورثاء کے درمیان ہے؛ کیونکہ وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے۔“
حدیث نمبر: 16066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: عَقْلُ الرَّجُلِ الْحُرِّ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَتِهِ، مَنْ كَانُوا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ عَلَى فَرَائِضِهِمْ، كَمَا كَانُوا يَقْسِمُونَ مِيرَاثَهُ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَقْلُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَتِهَا مَنْ كَانُوا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ كَمَا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثُهَا، وَيَعْقِلُ عَنْهَا عَصَبَتُهَا إِذَا قَتَلَتْ قَتِيلًا أَوْ جَرَحَتْ جَرِيحًا، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْأَخِ مِنَ الْأُمِّ هَلْ يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ وَرَّثَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحٌ، وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ: إِنَّمَا دِيَتُهُ بِمَنْزِلَةِ مِيرَاثِهِ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان وراثت ہوگی اور وہ ان کے درمیان فرضی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے اور آزاد عورت کی وراثت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی اور اگر عورت قتل کرے یا کسی کو زخمی کرے تو اس کے عصبہ اس کی دیت ادا کریں گے اور یہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہے۔ عمرو بن ہرم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: کیا باپ کی عدم موجودگی میں اخیافی بھائی دیت کا وارث ہوگا؟ فرمایا: ہاں، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور شریح رحمہ اللہ اسے وارث بناتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کی دیت اس کی میراث کے قائم مقام ہے۔
حدیث نمبر: 16067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مَنْ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " لَقَدْ ظَلَمَ مَنْ لَمْ يُوَرِّثِ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس نے ظلم کیا جو بھائیوں کو ماں کی دیت سے حصہ دار نہیں بناتا۔
حدیث نمبر: 16068
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " الدِّيَةُ تُقْسَمُ عَلَى فَرَائِضِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَرِثُ مِنْهَا كُلُّ وَارِثٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیت اللہ کے فرض کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی اور ہر وارث کو اس سے حصہ ملے گا۔