کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دھوکے سے قتل کرنے (قتلِ غیلہ) میں مقتول کے ورثاء کے معاف کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16060
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " مَنْ عَفَا مِنْ ذِي سَهْمٍ فَعَفْوُهُ عَفْوٌ قَدْ أَجَازَ عُمَرُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الْعَفْوَ مِنْ أَحَدِ الْأَوْلِيَاءِ، وَلَمْ يَسْأَلَا أَقَتْلَ غِيلَةٍ كَانَ ذَلِكَ أَمْ غَيْرَهُ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ مِنْ غَيْرِ نَائِرَةٍ هُوَ إِلَى الْإِمَامِ لَا يَنْتَظِرُ بِهِ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ، قَالَ: وَاحْتَجَّ لَهُمْ بَعْضُ مَنْ يَعْرِفُ مَذَاهِبَهُمْ بِأَثَرِ مِجْذَرِ بْنِ ⦗١٠١⦘ زِيَادٍ، وَلَوْ كَانَ حَدِيثُهُ مِمَّا يَثْبُتُ قُلْنَا بِهِ، فَإِنْ ثَبَتَ فَهُوَ كَمَا قَالُوا، وَلَا أَعْرِفُهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ثَابِتًا، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ فَكُلُّ مَقْتُولٍ قَتَلَهُ غَيْرُ الْمُحَارِبِ فَالْقَتْلُ فِيهِ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: ٣٣]، وَقَالَ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ١٧٨] قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا بَلَغَنَا قِصَّةُ مِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، مِنْ حَدِيثِ الْوَاقِدِيِّ مُنْقَطِعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حماد، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے ذی سہم سے درگزر کر دیا تو اس کا معاف کرنا معافی ہے۔ عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کی اجازت دی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو دوسرے شخص کو بغیر بغض کے قتل کر دے کہ وہ امام کی طرف ہے۔ وہ ولی مقتول کا بھی انتظار نہ کرے اور انہوں نے دلیل مجذر بن زیاد والے واقعہ سے لی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت ہو تب یہ بات ہے، ورنہ آج تک مجھے نہیں پتا چلا کہ یہ روایت بھی ثابت ہے اور اس کو ولی مقتول کی طرف لوٹانا اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ [سورة الإسراء: 33] ”کہ جو مظلوم قتل کیا جائے تو اس کا ولی اس کی جگہ سلطان ہے۔“
اور فرمایا: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ قصہ مجذر بن زیاد جو حدیثِ واقدی سے ہے منقطع اور ضعیف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو دوسرے شخص کو بغیر بغض کے قتل کر دے کہ وہ امام کی طرف ہے۔ وہ ولی مقتول کا بھی انتظار نہ کرے اور انہوں نے دلیل مجذر بن زیاد والے واقعہ سے لی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت ہو تب یہ بات ہے، ورنہ آج تک مجھے نہیں پتا چلا کہ یہ روایت بھی ثابت ہے اور اس کو ولی مقتول کی طرف لوٹانا اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ [سورة الإسراء: 33] ”کہ جو مظلوم قتل کیا جائے تو اس کا ولی اس کی جگہ سلطان ہے۔“
اور فرمایا: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ قصہ مجذر بن زیاد جو حدیثِ واقدی سے ہے منقطع اور ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 16061
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، فِي ذِكْرِ مَنْ قُتِلَ بِأُحُدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: وَمِجْذَرُ بْنُ زِيَادٍ قَتَلَهُ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ غِيلَةً، وَكَانَ مِنْ قِصَّةِ مِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ قَتَلَ سُوَيْدَ بْنَ الصَّامِتِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ، وَمِجْذَرُ بْنُ زِيَادٍ، فَشَهِدَا بَدْرًا، فَجَعَلَ الْحَارِثُ يَطْلُبُ مِجْذَرًا لِيَقْتُلَهُ بِأَبِيهِ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ تِلْكَ الْجَوْلَةَ أَتَاهُ الْحَارِثُ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حَمْرَاءِ الْأَسَدِ، فَلَمَّا رَجَعَ أَتَاهُ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ قَتَلَ مِجْذَرَ بْنَ زِيَادٍ غِيلَةً، وَأَمَرَهُ بِقَتْلِهِ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ، فَلَمَّا رَآهُ دَعَا عُوَيْمَ بْنَ سَاعِدَةَ فَقَالَ: " إِذَا قَدِمَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ بِالْمِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، فَإِنَّهُ قَتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ غِيلَةً " فَأَخَذَهُ عُوَيْمٌ، فَقَالَ الْحَارِثُ: دَعْنِي أُكَلِّمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى عَلَيْهِ عُوَيْمٌ فَجَابَذَهُ يُرِيدُ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَهَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَ، فَجَعَلَ الْحَارِثُ يَقُولُ: قَدْ وَاللهِ قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا كَانَ قَتْلِي إِيَّاهُ رُجُوعًا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَلَا ارْتِيَابًا فِيهِ، وَلَكِنَّهُ حَمِيَّةُ الشَّيْطَانِ، وَأَمْرٌ وُكِلْتُ فِيهِ إِلَى نَفْسِي، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِ اللهِ، وَأُخْرِجُ دِيَتَهُ وَأَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، وَأُعْتِقُ رَقَبَةً، وَأُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا، إِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَجَعَلَ يُمْسِكُ بِرِكَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَبَنُو مِجْذَرٍ حُضُورٌ، لَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا اسْتَوْعَبَ كَلَامَهُ قَالَ: " قَدِّمْهُ يَا عُوَيْمُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ " فَضَرَبَ عُنُقَهُ.
حافظ ثناء اللہ
واقدی شہداءِ احد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجذر بن زیاد رضی اللہ عنہ کو حارث بن سوید نے دھوکے سے قتل کیا۔ ان کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ مجذر رضی اللہ عنہ نے اس کے والد سوید بن صامت کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مجذر اور حارث بن سوید رضی اللہ عنہما مسلمان ہو گئے اور بعد میں شریک ہوئے تو حارث نے اس دن بھی مجذر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن نہ کر سکا۔ جب احد کا دن ہوا اور مسلمان پسپا ہونے لگے تو حارث پیچھے سے آیا اور مجذر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ نبی ﷺ مدینہ آئے پھر حمراء الاسد کی طرف نکلے۔ جب واپس لوٹے تو جبرائیل علیہ السلام نے آکر آپ ﷺ کو بتایا کہ مجذر رضی اللہ عنہ کو حارث نے قتل کیا ہے اور وہ بھی دھوکے سے، تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب آپ ﷺ قبا میں آئے تو وہاں حارث کو دیکھا تو آپ ﷺ نے عویمر بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور حکم دیا: ”حارث مسجد کے دروازے کی طرف آ رہا ہے، اسے مجذر بن زیاد رضی اللہ عنہ، جسے اس نے احد کے دن دھوکے سے قتل کیا تھا، کے بدلے میں قتل کر دو۔“ عویمر رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: ”ایک مرتبہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے بات کر لینے دو۔“ عویمر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ آپ ﷺ سوار ہونے کے لیے جانے لگے تو وہ کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے قتل کیا ہے اے اللہ کے رسول! اور میں نے اسلام سے مرتد ہو کر یا اس میں شک کرتے ہوئے اسے قتل نہیں کیا بلکہ شیطانی حمیت کی وجہ سے میں نے اسے قتل کیا ہے۔ اب میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں، اس کی دیت دیتا ہوں، غلام آزاد کرتا ہوں، دو مہینے کے روزے رکھتا ہوں، ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہوں اور میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔“ اور اس نے آپ ﷺ کی سواری کی لگام کو پکڑ لیا۔ بنو مجذر رضی اللہ عنہم بھی وہاں موجود تھے لیکن وہ خاموش تھے، انہیں رسول اللہ ﷺ نے کچھ نہیں کہا تھا۔ جب اس کی بات زیادہ لمبی ہونے لگی تو آپ ﷺ نے عویمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”عویمر! اسے پکڑو اور قتل کر دو۔“ تو عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن مار دی۔
حدیث نمبر: 16062
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغِلَانِيُّ، وَهُوَ يَذْكُرُ مَنْ عُرِفَ بِالنِّفَاقِ فِي عَهْدِ ⦗١٠٢⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ صَامِتٍ، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ الْمِجْذَرَ يَوْمَ أُحُدٍ، غِيلَةً فَقَتَلَهُ بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
مفضل بن غسان غلابی رحمہ اللہ ان منافقین کے بارے میں فرماتے ہیں جو نفاق کے ساتھ عہدِ رسالت میں مشہور تھے کہ حارث بن سوید، جو بنی عمرو بن عوف سے تھا اور (احد) میں شریک ہوا، اس نے مجذر رضی اللہ عنہ کو احد کے دن قتل کیا تو اسے بھی نبی ﷺ نے قصاصاً قتل کر دیا۔