کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا نفقہ (برداشت کرنے کی استطاعت) نہ پائے۔
حدیث نمبر: 15706
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٧٢⦘ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ فِي رِجَالٍ غَابُوا عَنْ نِسَائِهِمْ فَأَمَرَهُمْ " أَنْ يَأْخُذُوهُمْ بِأَنْ يُنْفِقُوا أَوْ يُطَلِّقُوا فَإِنْ طَلَّقُوا بَعَثُوا بِنَفَقَةِ مَا حَبَسُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجناد کے امراء کی طرف ان آدمیوں کے بارے میں لکھا جو اپنی بیویوں سے غائب ہو گئے، انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان کو پکڑیں، وہ یا تو خرچہ دیں یا طلاق دیں، اور اگر وہ طلاق دیں تو وہ ان کو وہ خرچہ دیں جو انہوں نے اس عورت کو روکنے کی وجہ سے روکا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 15707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا " قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قُلْتُ: سُنَّةً قَالَ: سَعِيدٌ: " سُنَّةً " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُشْبِهُ قَوْلَ سَعِيدٍ سُنَّةً أَنْ تَكُونَ سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی کے لیے وہ (مال) نہیں پاتا جو اس پر خرچ کرے، انہوں نے کہا: ”ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے۔“ ابوزناد کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”کیا یہ سنت ہے؟“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ سنت ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ جو سعید کے قول کے مشابہ ہے، یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ جو سعید کے قول کے مشابہ ہے، یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔“
حدیث نمبر: 15708
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ ⦗٧٧٣⦘ الْخَزَّازُ، ح وَنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَوْدِيُّ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی پر خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، فرمایا: ان دونوں کے درمیان جدائی کروائی جائے۔
حدیث نمبر: 15709
قَالَ: وَنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15710
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي بِمَكَّةَ، نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهَانِيُّ بِمَكَّةَ، نا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ الْمَكِّيُّ، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " قَالَ: وَمَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي، خَادِمُكَ يَقُولُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَلَدُكَ يَقُولُ: إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي؟ " ⦗٧٧٤⦘ هَكَذَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَجَعَلَ آخِرَهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَذَلِكَ جَعَلَهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کی تو عیال داری کرتا ہے ان سے ابتدا کر۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کی میں عیال داری کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری بیوی کہتی ہے: تو مجھے کھلا یا مجھے جدا کر دے، تیرا خادم کہتا ہے: مجھے کھلا اور مجھ سے کام لے یا مجھے دے، تیرا بیٹا کہے گا: کس چیز کو تو نے میرے لیے چھوڑا؟“ اسی طرح اس کو سعید بن ابو ایوب نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے اور اس کو ابن عیینہ اور اس کے علاوہ نے ابن عجلان سے مقبری سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15711
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، نا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَقُولُ امْرَأَتُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ: خَادِمُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَبِعْنِي وَيَقُولُ: وَلَدُكَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ مِنْ رَأْيِكَ أَوْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا بَلْ هَذَا مِنْ كَيْسِي، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو صالح، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”افضل صدقہ وہ ہے جو بندے کو غنی چھوڑے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتدا کر جن کی تو دیکھ بھال کرتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تیری بیوی کہے گی: تو مجھے کھلا وگرنہ مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم تجھے کہے گا: مجھے کھلا یا مجھے بیچ دے اور تیرا بیٹا کہے گا: مجھے تو نے کس کے سپرد کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے یا اللہ کے رسول ﷺ کا قول ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں بلکہ یہ میرا قیاس ہے۔ اس کو بخاری رحمہ اللہ نے عمر بن حفص بن غیاث سے اور اس کے والد اعمش سے صحیح میں نکالا ہے۔