کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غیلہ (ایامِ رضاعت میں صحبت کرنے یا حالتِ حمل میں دودھ پلانے) کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَبُو تَوْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم اپنی اولادوں کو مخفی انداز میں قتل نہ کرو، کیونکہ «الْغَيْلَةُ» ”غیلہ“ (دورانِ حمل دودھ پلانا) شہسوار کو پا لیتا ہے اور وہ اسے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 15684
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ ⦗٧٦٥⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ جذامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے غیلہ سے منع کرنے کا ارادہ کیا، حتیٰ کہ مجھے روم اور فارس یاد آئے کہ وہ یہ (عمل) کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں دیتا۔“
اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15685
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْفَقِيهُ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، نا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي فَقَالَ: لِمَ؟ فَقَالَ: شَفَقًا عَلَى وَلَدِهَا قَالَ: " إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَلَا مَا ضَرَّ ذَلِكَ فَارِسَ وَالرُّومَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَغَيْرِهِ عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی اور کہا کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا: ”یہ کس لیے کرتا ہے؟“ اس نے کہا: اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اسی طرح ہوتا تو یہ فارس اور روم کو نقصان دیتی“، یعنی اس نے فارس اور روم کو نقصان نہیں دیا۔
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے ابن نمیر اور اس کے علاوہ نے مقری سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے ابن نمیر اور اس کے علاوہ نے مقری سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15686
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ قَالَ: أَنْبَأَنِي الْقَاسِمُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَكْرَهُ الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ يَعْنِي نَتْفَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مَحْرَمِهِ " قَالَ يُوسُفُ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ «الصُّفْرَةَ» ”صفرہ“ کو ناپسند کرتے تھے، یعنی «الْخَلُوقَ» ”خلوق“ کو (مراد ایسی خوشبو جس میں زرد رنگ ہو) اور ”سفید بالوں کے اکھاڑنے کو ناپسند فرماتے اور شلوار یا تہبند یا چادر وغیرہ کے لٹکانے کو ناپسند فرماتے اور ایڑیوں کے نشانات کا اور زینت خوبصورتی کو ظاہر کرنے کو اور محرم کے علاوہ بچوں کے فساد کو ناپسند فرماتے تھے“۔ یوسف کہتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ نے اسی اسناد کے ساتھ حدیث بیان کی اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان۔