کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ام ولد (وہ لونڈی جس سے مالک کا بچہ پیدا ہوا ہو) کے استبراءِ رحم کا بیان۔
حدیث نمبر: 15576
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٧٣٥⦘ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ يُتَوَفَّى عَنْهَا سَيِّدُهَا " تَعْتَدُّ بِحَيْضَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام ولد کے بارے میں فرمایا: اس کا مالک فوت ہو گیا ہے، وہ ایک حیض عدت گزارے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15576
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15577
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ بِحَيْضَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام ولد (وہ لونڈی جو بچے کی ماں ہو) کی عدت ایک حیض ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15577
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15578
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: " إِنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ فَرَّقَ بَيْنَ رِجَالٍ وَنِسَائِهِمْ كُنَّ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ رِجَالٍ هَلَكُوا فَتَزَوَّجُوهُنَّ بَعْدَ حَيْضَةٍ وَحَيْضَتَيْنِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ حَتَّى يَعْتَدِدْنَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا "، قَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: " سُبْحَانَ اللهِ يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: ٢٣٤] مَا هُنَّ لَهُمْ بِأَزْوَاجٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا کہ یزید بن عبدالملک نے مردوں اور ان کی بیویوں کے درمیان فرق کیا ہے۔ آدمیوں کی اولاد کی مائیں تھیں وہ ہلاک ہوگئے تو انہوں نے ایک حیض یا دو حیض کے بعد شادی کرلی۔ ان کے درمیان تفریق کردی یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزاریں۔
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ، اللہ پاک ہے“، اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ ان کے لیے شوہر نہیں ہیں۔
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت جب اس کا مالک فوت ہوجائے ایک حیض ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک بھی یہی مسئلہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15578
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15579
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْبَغْدَادِيُّ الرَّفَّاءُ، نا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ يُعْتِقُهَا سَيِّدُهَا أَوْ يُتَوَفَّى عَنْهَا حَيْضَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
اہلِ مدینہ کے فقہا فرماتے ہیں: امِ ولد کی عدت ایک حیض ہے، اس کا مالک فوت ہو جائے یا وہ اسے آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15579
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15580
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ح قَالَ: وَنا يُوسُفُ قَالَ: وَنا أَبُو الْخَطَّابِ، نا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، ح قَالَ: وَنا مَطَرٌ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ⦗٧٣٦⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: قَبِيصَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو وَالصَّوَابُ لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا دِينَنَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو۔ ام ولد کی عدت اس عورت کی عدت کی طرح چار ماہ اور دس دن ہے جس کا خاوند فوت ہو جائے اور یزید کی روایت میں ہے: ام ولد کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
ابوبکر بن حارث فقیہ فرماتے ہیں کہ ابو الحسن دارقطنی حافظ نے کہا: قبیصہ نے عمرو سے نہیں سنا اور درست یہ ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے دین کو خلط ملط نہ کرو۔ (یہ موقوف ہے)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15580
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 15581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْحُرَّةِ " قَالَ أَبِي: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت کی طرح ہے، میرے والد نے کہا: یہ حدیث منکر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15581
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
حدیث نمبر: 15582
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْحُرَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت ہے، یعنی چار ماہ اور دس دن۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15582
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15583
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَإِذَا أُعْتِقَتْ فَعِدَّتُهَا ثَلَاثُ حِيَضٍ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، نا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، نا أَبُو مَعْبَدٍ فَذَكَرَهُ قَالَ: عَلِيٌّ مَوْقُوفٌ وَهُوَ الصَّوَابُ وَهُوَ مُرْسَلٌ لِأَنَّ قَبِيصَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو ابو معبد بن حفص بن غیلان نے سلیمان بن موسیٰ سے اپنی اسناد کے ساتھ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف روایت کیا ہے کہ ام ولد کی عدت جب اس کا مالک فوت ہو جائے چار ماہ اور دس دن ہے اور جب اس کو آزاد کر دیا جائے پھر اس کی عدت تین حیض ہے۔
ہمیں ابو عبدالرحمن سلمی اور ابوبکر بن حارث رحمہما اللہ نے بتلایا کہ ہمیں علی بن عمر الحافظ رحمہ اللہ نے خبر دی محمد بن حسین بن علی الیقطینی نے اور فرمایا کہ ہمیں فرماتے ہیں: ہمیں حسین بن عبداللہ بن یزید القطان نے حدیث بیان کی، ان کو عباس بن ولید الخلال دمشقی نے حدیث بیان کی، ان کو زید بن یحییٰ بن عبید نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں ابو معبد نے حدیث بیان کی، اس نے ذکر کیا کہ علی کہتے ہیں: موقوف حدیث ہے اور یہی درست ہے اور وہ مرسل ہے؛ کیونکہ قبیصہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15583
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 15584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، نا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، نا أَبُو تَوْبَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ مَارِيَةَ " اعْتَدَّتْ بِثَلَاثِ حِيَضٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي أُمَّ إِبْرَاهِيمَ " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَسُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَعِيفٌ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنْ عَطَاءٍ مُذْهَبَةٌ دُونَ الرِّوَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ماریہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد تین حیض عدت گزاری، یعنی ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ نے خبر دی اور یہ منقطع ہے۔ سوید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ضعیف راوی ہے اور جماعت کی روایت عطاء رحمہ اللہ سے ہے؛ یہ ان کا اپنا مذہب ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15584
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15585
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زُرَارَةَ، نا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، نا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ عِدَّةِ أُمِّ الْوَلَدِ فَقَالَ " حَيْضَةٌ " فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ " فَقَالَ " عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيْرُنَا وَأَعْلَمُنَا " وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ام ولد کی عدت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک حیض عدت ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تین حیض اس کی عدت ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ ہم میں سے بہتر ہیں اور وہ ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ (عثمان کے قصہ کے علاوہ)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15585
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15586
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، نا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " قَالَ وَكِيعٌ: مَعْنَاهُ إِذَا مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا بَعْدَ سَيِّدِهَا قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَاتُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ غَيْرُ قَوِيَّةٍ يَقُولُونَ وَهِيَ مَحِيفَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
خلاس بن عمرو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام ولد کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ جب اس کا خاوند بھی اس کے مالک کی وفات کے بعد مر جائے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خلاس کی روایات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محدثین کے نزدیک غیر قوی ہیں، وہ فرماتے ہیں: یہ نہایت کمزور ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15586
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»