کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جو لاپتہ شخص کی واپسی پر اسے بیوی اور مہر (واپس لینے) کے درمیان اختیار دینے کے قائل ہیں، اور جنہوں نے اس امر کا انکار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15570
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى " أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ خَرَجَ يُصَلِّي مَعَ قَوْمِهِ الْعِشَاءَ فَسَبَتْهُ الْجِنُّ فَفُقِدَ فَانْطَلَقَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ قَوْمَهُ فَقَالُوا: نَعَمْ خَرَجَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَفُقِدَ فَأَمَرَهَا " أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِينَ، فَلَمَّا مَضَتِ الْأَرْبَعُ سِنِينَ أَتَتْهُ فَأَخْبَرَتْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهَا فَقَالُوا: نَعَمْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا يُخَاصِمُ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَغِيبُ أَحَدُكُمُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ لَا يَعْلَمُ أَهْلُهُ حَيَاتَهُ "، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِي عُذْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: وَمَا عُذْرُكَ؟ قَالَ: خَرَجْتُ أُصَلِّي الْعِشَاءَ فَسَبَتْنِي الْجِنُّ فَلَبِثْتُ فِيهِمْ زَمَانًا طَوِيلًا فَغَزَاهُمْ جِنٌّ مُؤْمِنُونَ أَوْ قَالَ: مُسْلِمُونَ شَكَّ سَعِيدٌ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ فَسَبَوْا مِنْهُمْ سَبَايَا فَسَبَوْنِي فِيمَا سَبَوْا مِنْهُمْ فَقَالُوا: نَرَاكَ رَجُلًا مُسْلِمًا وَلَا يَحِلُّ لَنَا سَبْيُكَ فَخَيَّرُونِي بَيْنَ الْمُقَامِ وَبَيْنَ الْقُفُولِ إِلَى أَهْلِي فَاخْتَرْتُ الْقُفُولَ إِلَى أَهْلِي فَأَقْبَلُوا مَعِي أَمَّا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ يُحَدِّثُونِي وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَعِصَارُ رِيحٍ أَتْبَعُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَمَا كَانَ طَعَامُكَ فِيهِمْ؟ " قَالَ: الْفُولُ وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَا كَانَ شَرَابُكَ فِيهِمْ؟ قَالَ: الْجَدَفُ قَالَ قَتَادَةُ: وَالْجَدَفُ مَا لَا يُخَمَّرُ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ: فَخَيَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ " قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي مَطَرٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ⦗٧٣٣⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا أَنَّ مَطَرًا زَادَ فِيهِ قَالَ: أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَ سِنِينَ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اپنی قوم کے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو اسے جنوں نے قیدی بنا لیا، وہ لاپتہ ہو گیا تو اس کی بیوی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس کا قصہ بیان کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کی قوم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جی ہاں! وہ عشاء کی نماز کے لیے نکلا تھا اور پھر اسے گم پایا گیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ وہ چار سال تک انتظار کرے۔ جب چار سال گزر گئے تو وہ دوبارہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں خبر دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دوبارہ سوال کیا۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ وہ شادی کر لے۔ چنانچہ اس نے شادی کر لی، پھر اس کا پہلا خاوند واپس آگیا، اس نے اس معاملے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں جھگڑا پیش کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک لمبا عرصہ غائب رہتا ہے اور اس کے اہل نہیں جانتے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میرے پاس عذر ہے۔ آپ نے پوچھا: تیرا کیا عذر ہے؟ اس نے کہا: میں عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو مجھے جنوں نے قید کر لیا اور میں ایک طویل عرصے تک ان کے درمیان رہا، پھر مومن یا مسلم جنوں نے ان سے لڑائی کی—اس کے بارے میں سعید کو شک ہوا ہے—انہوں نے ان سے قتال کیا اور ان پر غلبہ پایا، مومن جنوں نے ان کے جنوں کو قید کیا اور مجھے بھی قیدی بنایا، پھر انہوں نے کہا: ہم تمہیں مسلمان آدمی سمجھتے ہیں اور ہمارے لیے تمہیں قیدی بنانا حلال نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے مجھے وہاں رہنے یا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جانے کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے اپنے اہل کی طرف لوٹنے کو اختیار کیا، وہ میرے ساتھ آئے، رات کو آئے یا دن کو آئے—انہوں نے مجھے یہ بیان نہیں کیا—میں ان کی ہوا کی پیروی کرتا رہا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ان میں تیرا کھانا کیا تھا؟ اس نے کہا: «الْفُولُ» ”لوبیا“ اور وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں تیرا پینا کیا تھا؟ اس نے کہا: «الْجَدَفُ» ”جدف“۔ قتادہ فرماتے ہیں: «الْجَدَفُ» ”جدف“ وہ شراب ہے جو سکر پیدا ہونے سے پہلے استعمال کرتے ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دے دیا۔ سعید فرماتے ہیں: اور مجھے مطر نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قتادہ کی حدیث کی طرح نقل فرماتے ہیں، مگر مطر نے اس میں کچھ زیادہ کیا ہے، فرماتے ہیں: اسے حکم دیا کہ وہ چار سال، چار ماہ اور دس دن انتظار کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15570
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15571
قَالَ: وَأنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ مَا رَوَى قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ. وَرَوَاهُ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى مُخْتَصَرًا وَزَادَ فِيهِ قَالَ: " فَخَيَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ " قَالَ حَمَّادٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَأَعْطَاهُ الصَّدَاقَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، أَخْبَرَنَاه أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ نا عَفَّانُ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أنا ثَابِتٌ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ الْفَقِيدِ الَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الْجِنُّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ قَالَ: إِنْ جَاءَ زَوْجُهَا وَقَدْ تَزَوَّجَتْ خُيِّرَ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ صَدَاقِهَا فَإِنِ اخْتَارَ الصَّدَاقَ كَانَ عَلَى زَوْجِهَا الْآخَرِ وَإِنِ اخْتَارَ امْرَأَتَهُ اعْتَدَّتْ حَتَّى تَحِلَّ ثُمَّ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَكَانَ لَهَا مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَضَى بِذَلِكَ عُثْمَانُ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمَا وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُنْكِرُ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى عَنْ عُمَرَ فِي التَّخْيِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے جس طرح قتادہ رحمہ اللہ نے ابونضرہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اس کو ثابت بنانی رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ رحمہ اللہ سے مختصر طور پر روایت کیا ہے اور اس میں اضافہ کیا ہے کہ اس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حق مہر اور اس کی بیوی کے مابین اختیار دیا۔ اس نے حق مہر کو اختیار کیا۔ حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ اس کو حق مہر بیت المال سے دیا۔
اس کو مجاہد رحمہ اللہ نے اس گم شدہ شخص سے روایت کیا ہے جس کو جن نے قیدی بنا لیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یونس بن یزید کی روایت میں ہے، وہ ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں: اگر اس کا خاوند آ جائے اور وہ شادی کر چکی ہے تو اس کو اس کی بیوی اور اس کی بیوی کے حق مہر کے درمیان اختیار دیا جائے گا اور اگر وہ حق مہر کو اختیار کرے تو وہ اس عورت کے دوسرے خاوند کے پاس ہو گی اور اگر وہ اپنی بیوی کو اختیار کرے تو وہ عدت گزارے گی حتیٰ کہ وہ حلال ہو جائے۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی طرف رجوع کرے گی اور اس کے لیے اس کے دوسرے خاوند سے حق مہر ہو گا، اس لیے کہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا اور ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسی کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا اور مالک بن انس رحمہ اللہ اس کی روایت کا انکار کرتے ہیں جس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اختیار کے بارے میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15571
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15572
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ قَالَ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَهُمْ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يُخَيَّرُ زَوْجُهَا إِذَا جَاءَ وَقَدْ نُكِحَتْ فِي صَدَاقِهَا وَفِي الْمَرْأَةِ قَالَ مَالِكٌ: إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ إِلَيْهَا. وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ جَاءَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
مالک رحمہ اللہ نے ہمیں حدیث بیان کی، فرمایا: میں لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے کہا: ”اس کے خاوند کو اختیار دیا جائے گا جب وہ آ جائے۔“ اگر وہ نکاح کر چکی تو اسے حق مہر میں اور عورت میں اختیار دیا جائے۔ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ اپنی عدت کے ختم ہونے کے بعد شادی کرے، اگرچہ اس نے اس کے ساتھ دخول کیا ہے یا نہیں کیا، اس کے پہلے خاوند کے لیے اس کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے اور یہی مسئلہ ہمارے لیے بھی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کا خاوند اس کی عدت کے ختم ہونے سے پہلے آ جائے تو وہی اس کا حق دار ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15572
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15573
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّ صَاحِبَنَا قَالَ: أَدْرَكْتُ مَنْ يُنْكِرُ مَا قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَدْ رَأَيْنَا مَنْ يُنْكِرُ قَضِيَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّهَا فِي الْمَفْقُودِ وَيَقُولُ: هَذَا لَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَضَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهَلْ كَانَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّ الثِّقَاتِ إِذَا حَمَلُوا ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يُتَّهَمُوا فَكَذَلِكَ الْحُجَّةُ عَلَيْكَ وَكَيْفَ جَازَ أَنْ يَرْوِيَ الثِّقَاتُ عَنْ عُمَرَ حَدِيثًا وَاحِدًا فَنَأْخُذُ بِِبَعْضِهِ وَنَدَعُ بَعْضًا.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں ربیع رحمہ اللہ نے خبر دی، میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے ساتھی نے کہا ہے: میں ان لوگوں کو پاتا ہوں جو انکار کرتے ہیں اس کا جو بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے دیکھا ہے جو عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا انکار کرتا ہے ان تمام کا جو گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں ہیں اور وہ کہتا ہے: یہ اس کے مشابہ نہیں ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے میں سے ہو۔ ثقہ راویوں نے جب اس کو عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہو، پھر ان پر تہمت نہیں لگائی جائے گی۔ اسی طرح حجت آپ پر ہوگی اور یہ کیسے جائز ہے کہ ثقہ راوی عمر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کریں اور ہم اس کے بعض کو لیں اور بعض کو چھوڑ دیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15573
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15574
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَوْ قَالَ: أَظُنُّهُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ عُمَرَ ⦗٧٣٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيَّرَ الْمَفْقُودَ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَالصَّدَاقِ لَرَأَيْتُ أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا إِذَا جَاءَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ فَلْتَصْبِرْ لَا تَنْكِحُ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ قَالَ: وَبِهَذَا نَقُولُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَى قَتَادَةُ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو وعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا جَاءَ الْأَوَّلُ خُيِّرَ بَيْنَ الصَّدَاقِ الْأَخِيرِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَرِوَايَةُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ضَعِيفَةٌ وَأَبُو الْمَلِيحِ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی، مسروق سے روایت کرتے ہیں یا فرمایا: میں گمان کرتا ہوں کہ مسروق سے روایت ہے کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گم شدہ خاوند کو اس کی بیوی اور حق مہر کے درمیان اختیار نہ دیا ہوتا، تو میں سمجھتا کہ وہ اس کا زیادہ حق دار ہوتا جب وہ آجاتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گم شدہ خاوند کی بیوی ایسی عورت ہے جس کی آزمائش کی گئی ہے، وہ صبر کرے اور نکاح نہ کرے یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہم کہتے ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اسے قتادہ نے خلاس بن عمرو سے، ابوملیح سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس کا پہلا خاوند آجائے تو اسے دوسرے حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔
اور خلاس کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف ہے اور ابوملیح نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15574
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15575
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ أَبُو نَصْرٍ، يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَطَاءٍ: سَأَلْتُ سَعِيدًا عَنِ الْمَفْقُودِ، فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ إِلَى سُهَيْمَةَ بِنْتِ عُمَيْرٍ الشَّيْبَانِيَّةِ أَسْأَلُهَا، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا صَيْفِيَّ بْنَ قَتِيلٍ نُعِيَ لها مِنْ قَنْدَايِلَ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِيفٍ الْقَيْسِيَّ ثُمَّ إِنَّ زَوْجَهَا الْأَوَّلَ قَدِمَ فَأَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا فَقَالَ: كَيْفَ أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقُلْنَا: قَدْ رَضِينَا بِقَوْلِكَ فَقَضَى " أَنْ يُخَيَّرَ الزَّوْجُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ " ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَضَى بِمَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " خُيِّرَ الزَّوْجُ الْأَوَّلُ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ الصَّدَاقِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّي أَلْفَيْنِ وَمِنْ زَوْجِي أَلْفَيْنِ وَهُوَ صَدَاقُهُ الَّذِي كَانَ جَعَلَ لِلْمَرْأَةِ " قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ مِنْ بَعْدِهِ وَوَلَدَتْ لِزَوْجِهَا أَوْلَادًا فَرَدَّهَا عَلَيْهِ وَوَلَدَهَا وَجَعَلَ لِأَبِيهِمْ أَنْ يَفْتَكَّهُمْ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: قَالَ سَعِيدٌ: وَنا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ جَعَلَ أَوْلَادَهَا لِأَبِيهِمْ قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: يَأْخُذُ الصَّدَاقَ الْآخَرَ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: يَأْخُذُ الصَّدَاقَ الْأَوَّلَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ لَمْ تَعْرِفْ بِمَا تُثْبِتُ بِهِ رِوَايَتَهَا هَذِهِ وَإِنْ ثَبَتَتْ تُضَعِّفْ رِوَايَةَ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلَةً فِي الْمَفْقُودِ فَإِنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي امْرَأَةٍ نُعِيَ لَهَا زَوْجُهَا، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَدَّمْنَا ذِكْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابو طالب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ابو نصر عبدالوہاب بن عطاء نے کہا: میں نے سعید سے گم شدہ خاوند کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے ہمیں قتادہ سے خبر دی کہ ابو الملیح ہذلی نے کہا: مجھے حکم بن ایوب سہمیہ کی طرف بھیجا گیا، میں نے اس سے سوال کیا، اس نے مجھے حدیث بیان کی کہ اس کے خاوند صیفی بن قتیل کے فوت ہونے کا قندابیل سے اس کے لیے اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد عباس بن طریف قیسی نے اس سے شادی کر لی، پھر اس کا پہلا خاوند بھی آ گیا۔ ہم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ قید میں تھے۔ انہوں نے ہم پر جھانکا اور فرمایا: میں تمہارے درمیان کیسے فیصلہ کروں اور میں اس حال میں ہوں؟ ہم نے کہا: ہم آپ کے فرمان کے ساتھ راضی ہو جائیں گے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے خاوند کو حقِ مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلے خاوند کو اس کی بیوی اور حقِ مہر کے درمیان اختیار دیا گیا ہے۔ اس نے حقِ مہر کو اختیار کیا۔ اس نے مجھ سے دو ہزار لیے اور میرے خاوند سے بھی دو ہزار لیے اور وہ اس کا حقِ مہر تھا جو اس نے عورت کو دیا تھا۔ فرماتے ہیں: وہ اس کے لیے امِ ولد رہی، اس نے اس کے بعد شادی کر لی، اس نے اس کے لیے اولاد کو جنم دیا۔ اس نے اس کو اس پر لوٹا دیا اور عبدالوہاب نے فرمایا: سعید نے کہا: ہمیں ایوب نے ابو الملیح سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ اس کے علاوہ ایوب نے کہا: کیا اس کی اولاد کو ان کے باپ کے لیے (قرار دیا)؟ فرمایا: قتادہ فرماتے تھے: وہ دوسرے کا حقِ مہر لے، اور قتادہ کی حسن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: وہ پہلے کا حقِ مہر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15575
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»