کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مدتِ حمل کی کم از کم مقدار کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15548
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ لَتِسْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَعِشْرِينَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لَسَبْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا وَإِذَا وَضَعَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " يَعْنِي قَوْلَهُ: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عورت نو مہینوں کا بچہ جنے اس کو اکیس مہینے رضاعت کافی ہے اور جب سات ماہ کا بچہ جنم دے تو اس کو تیس مہینے رضاعت (یعنی بچے کو دودھ پلانا) کافی ہے اور جب چھ ماہ کے بچے کو جنم دے تو اس کو چوبیس ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور اس کے حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15548
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْقَصَّافِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ فَهَمَّ بِرَجْمِهَا " فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهَا رَجْمٌ " فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} [البقرة: ٢٣٣] وَقَالَ: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ} [الأحقاف: ١٥] ثَلَاثُونَ شَهْرًا فَسِتَّةُ أَشْهُرٍ حَمْلُهُ حَوْلَيْنِ تَمَامٌ لَا حَدَّ عَلَيْهَا أَوْ قَالَ: لَا رَجْمَ عَلَيْهَا " قَالَ: " فَخَلَّى عَنْهَا ثُمَّ وَلَدَتْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحرب بن ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کرنے کا ارادہ فرمایا، یہ بات علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، انھوں نے فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے ان کی طرف قاصد کو بھیجا کہ وہ اس سے سوال کرے اور فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ [سورة البقرة: 233] ”اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں مکمل دو سال جو ارادہ کریں رضاعت کو مکمل کرنے کا۔“ اور فرمایا: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ چھ ماہ اس کے حمل کی مدت اور دو سال اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت ہے، اس پر حد نہیں ہے یا فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، چنانچہ اس کو عمر رضی اللہ عنہ نے چھوڑ دیا، پھر اس نے بچے کو جنم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15549
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15550
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْقَصَّافِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " رُفِعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَذَكَرَهُ كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عُمَرُ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15550
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15551
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٢٧⦘ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ " فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا} [الأحقاف: ١٥] وَقَالَ: {وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ} [لقمان: ١٤] وَقَالَ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ} [البقرة: ٢٣٣] فَالرَّضَاعَةُ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا وَالْحَمْلُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ " فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ " أَنْ تُرَدَّ فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو حدیث پہنچی کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا، اس نے چھ ماہ میں بچے کو جنم دیا تھا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور حمل اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ اور فرمایا: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ [سورة لقمان: 14] ”اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت دو سال ہے“ اور فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [سورة البقرة: 233] ”مدتِ رضاعت چوبیس ماہ ہے اور مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا، اسے لوٹایا گیا تو پایا گیا کہ اسے رجم کر دیا گیا تھا، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15551
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»